PDA

View Full Version : تقلید اک گمراہی۔۔۔؟



rushed
05-13-2009, 05:02 AM
Asslaoalaikum 2 all muslims,

rushed
05-13-2009, 05:03 AM
remaining part:

ملنگ
05-16-2009, 12:37 AM
میں اسکا جواب تیار کر رہا ہوں انشااللہ بہت جلد پوسٹ کر دیا جاے گا

Shahid Nazeer
06-01-2009, 08:40 AM
میں اسکا جواب تیار کر رہا ہوں انشااللہ بہت جلد پوسٹ کر دیا جاے گا



اسکا جواب تو نہیں لکھا جاسکتا۔ ہاں البتہ تاویلات باطلہ سے مسلمانوں کو دھوکہ ضرور دیا جاسکتاہے۔

Reehab
06-01-2009, 05:01 PM
میں اسکا جواب تیار کر رہا ہوں انشااللہ بہت جلد پوسٹ کر دیا جاے گا



اسکا جواب تو نہیں لکھا جاسکتا۔ ہاں البتہ تاویلات باطلہ سے مسلمانوں کو دھوکہ ضرور دیا جاسکتاہے۔


dil ke bhelane ko khiyal acha he gahlib AHLEHAQ ka kame he ke batil ko tore na ke batila ko pehlaye for kind of ur information shahid bahyee. so mind it

ملنگ
06-01-2009, 08:28 PM
میں اسکا جواب تیار کر رہا ہوں انشااللہ بہت جلد پوسٹ کر دیا جاے گا



اسکا جواب تو نہیں لکھا جاسکتا۔ ہاں البتہ تاویلات باطلہ سے مسلمانوں کو دھوکہ ضرور دیا جاسکتاہے۔


جناب جو جواب اس آرٹیکل کا آے گا انشااللہ اسکو دیکھ کر زبیر علی زیی صاحب کے چہرے پر بھی پسینہ آجاے گا جسکی کتاب سے حوالے لیے گےء ہیں ۔۔۔ اور وہ بھی نا مکمل

ملنگ
01-03-2010, 12:42 AM
اسلام علیکم

تقلید کیا ہے ؟۔

جناب محترم رشد بھای نے تقلید کی لغوی تریفات اپنے آرٹیکل میں نقل کی ہیں ۔۔۔ تعریفات تو بظاہر ٹھیک ہیں لیکن صرف کسی لفظ کی لغوی تعریف سے بات سمجھ نہیں آتی اسی لیے بہت ہو گا کہ میں شروع ہی میں تقلید کی ایک لغوی اور چند اصطلاحی تعریف بھی بیان کر دوں تا کہ مسلہ سمجھنے میں آسانی ہو ل۔

تقلید کے لغوی تعریف

اسکا ماخذ اشتقاق " قلادۃ " ہے ، قلادۃ پٹے اور ہار کو کہتے ہیں ، اگر جانور کے گلے میں ہو تو پٹہ، انسان کے گلے میں ہو تو ہار۔ حضرت عاءیشہؓ کے ہار پر قلادے کا اطلاق کیا گیا۔ و القلادۃ ما جعل فی العنق یکون للانسان ولفرس الکلب التی تھدی و نحوھا "

(لسان العرب:3/366، دار صادر)

قلدہ القضاء فلاں نے فلاں کو قاضی بنا دیا۔ قلد فلان فلاناً فی کذا، فلاں نے فلاں کی کسی بات میں اتباع کی۔

اکثر لوگ یہاں پر قلادہ سے یہ مطلب لے لیتے ہیں کہ چاہے انسان کے گلے میں ہو یا جانور کے گلے میں تب بھی پٹا ہی ہے حلانکہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے ۔۔۔

قلید کا مادہ قلادہ ہے یہ قلادہ جب انسان کے گلے میں ہو تو ہار کہلاتا ہے اور حیوان کے گلے میں ہو تو پٹہ کہلاتا ہے حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عاءشہ صدیقہؓ نے استعمارت من اسماءؓ قلادہ الحدیث (بخاری جلد 1 ص 48 و مسلم جلد 1 ص 532 ) حضرت اسماءؓ سے ہار مانگا تھا (اور پہنا) اور انہوں نے فرمایا کہ
انسلت قلادہ لی من عنقی فوقعت (الحدیث) میرا ہار گردن سے سرک کر نیچے گر پڑا
(مسند احمد جلد6 ص 272)

مشہور لغوی علامہ قرشیؒ فرماتے ہیں کہ

تقلید در گردن افگندن حمیل وغیر آن کسے (صراح ص 143 طبع مجیدی کانپور)۔

تقلید کا معنیٰ کسی کے گلے میں ہار وغیرہ ڈالنا

اور نیز فرماتے ہیں

وچیزے در گردن قربانی در آویختن بجہت علامت (ص 143)۔
اور قربانی کے جانور کی گردن میں بطور علامت کوی چیز لٹکا دینا۔
لغت کی جدید اور معروف کتاب مصباح اللغات ص 764 میں ہے ۔

قلدہ فی کذا۔ اس نے اس کی فلاں بات میں بغیر غور و فکر کے پیروی کی، تقلید کے اس لغوی معنیٰ میں مُقلّدِ اپنے امام پر اس کے علم ع تقویٰ پر اعتماد کرتے ہوے اس کے قول کو اپنے گلے کا ہار بناتا ہے۔ الحاصل لفظ قِلادہ جب انسان کے لیے بولا جاے گا تو اس سے ہار مراد ہوتی ہے اور جب حیوان کے لیے بولا جاے تو اس سے گلے کا پٹہ مراد ہوتی ہے انسان کے لیے بجاے ہار کے حیوانوں کا پٹہ ہی مراد لینا اور اس پر اصرار کرنا نہ صرف یہ عقل کی خامی ہے بلکہ اخلاقی پستی بھی ہے۔

تقلید کے اصطلاحی معنی

مسایل فرعیہ دو قسم کے ہیں 1۔ منصوص 2۔ غیر منصوص۔۔۔۔ پھر منصوص دو قسم کے ہیں متعارض اور غیر متعارض۔۔۔۔ پھر غیر متعارض دو قسم کے ہیں محکم ،محتمل۔۔۔۔۔۔
۔1 جو مساءل منصوص غیر متعارض اور محکم ہیں ان میں نہ اجتہاد کی گنجایش ہے اور نہ تقلید کی۔
۔2۔مساءل غیر منصوصہ : مجتہد غیر منصوص جزی کا حکم قواءد شرعیہ کے مطابق عمل کرتا ہے جیسے شوربے میں چیونٹی، دودھ میں بھٹر، شربت میں مچھر بجاے اس کے کہ میں تقلید کا اصطلاحی اور عرفی معنیٰ اصول فقہ کی دوسری کتابوں سے نقل کروں بہتر یہ ہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے بڑے شیخ الکل حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلویؒ سے نقل کیا جاوے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ معنیٰ تقلید کے اصطلاح میں اہل اصول کی یہ ہیں کہ مان لینا اور عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کی بات جس کا قول حجت شرعی نہ ہو۔تو اس بنا پر اس اصطلاح کی رجوع کرنا عامی کا طرف مجتہد وں کی اور تقلید کرنی ان کی کسی مسلہ میں تقلید نہ ہو گی ۔(کیونکہ لاعلمی کے وقت ان کی طرف رجوع کرنا نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور وہ شخص اہل الذکر اور اہل علم کی بات ماننے کا شرعاً مکلف ہے۔احقر) بلکہ اس کو اتباع اور سوال کہیں گے اور معنیٰ تقلید کے عرف میں یہ ہیں کہ وقت لاعلمی کے کسی اہل علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا اور اس معنیٰ عرفی میں مجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے الخ (میعار الحق ص 66) اور پھر عقد الفرید کا حوالہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ اور فاضل (حبیب اللہ) قندھاریؒ مغتنم الحصول میں فرماتے ہیں (ہم حضرت میاں صاحبؒ کے ترجمہ پر ہی اکتفا کرتے ہیں ) تقلید اس شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا ہے جس کا قول حجتوں شرعیہ میں سے نہ ہو سو رجوع کرنا آنحضرت ﷺ اور اجماع کی طرف تقلید نہ ٹھری اور اسی طرح رجوح کرنا انجان کا مفتی کے قول کی طرف اور رجوع کرنا قاضی کا ثقہ آدمی کے قول کی طرف تقلید نہی ٹہرے گی کیونکہ یہ رجوع بحکم شرع واجب ہے بلکہ رجوع کرنا مجتہد یا انجان کا اپنے جیسے آدمی تقلید نہی لیکن مشہور یوں ہو گیا ہے کہ انجان مجتہد کا مقلد ہے۔

تقلید کی چند اور اصطلاحی تعریفات:۔

1۔"التقلید اتباع الانسان غیرہ فی ما یقول او یفعل معتقداً للحقیۃ من غیر الی الدلیل، کان ھذا المتبع جعل قول الغیر قلادۃً فی عنقہ من غیر مطالبۃ دلیل"

"کسی کو حق پر سمجھتے ہوے دلیل میں غور کیےء بغیر قول یا فعل میں اس کی اتباع کرنا گویا کہ یہ اتباع کرنے والا غیر کے قول کو ہار سمجھتے ہوے اپنے گلے میں ڈالتا ہے اور دلالیل کا مطالبہ نہیں کرتا"۔
(لسان العرب 3/366،دار صادر)

2۔ " وھو عبارۃ عن اتباعہ فی وقولہ او فعلہ معتقداً للحقیقۃ من غیر تامل فی الدلیل"
" دلیل میں غورو فکر کیےء بغیر کسی کو حق پر سمجھتے ہو قول یا فعل میں اس کی پیروی کرنا"۔
(شرح المنار: 252، بحوالہ الکلام المفید: 31، مکتبۃ صفدریۃ)

3۔ " التقلید اتباع الغیر علی ظن انہ محق بلا نظر فی الدلیل "
دلیل میں غور و خوص کیے بغیر کسی کی اتباع کرنا یہ گمان رکھتے ہوے کہ وہ حق پر ہے "۔
( النامی شرح الحسامی: 190، قدیمی)

4۔ " قبول قول الغیر بلا حجۃ ولا دلیل"۔
" دلیل کی معرفت حاصل کیے بغیر کسی کے قول پر عمل پیرا ہونا"۔
(التعریفات: 47، دارلمنار)

5۔ " قبول قول المر فی الدین بغیر دلیل"۔
دین میں کسی مرد کے قول کو بغیر دلیل کے قبول کرنا
( قواطع الادلۃ: 2/ 340، دار الکتب العلمیۃ)

تقلید کی اقسام:۔

تقلید کی دو قسمیں ہیں
۔مذموم1
کہ کسی کی بات محض بے دلیل ہو اس پر عمل کرنا
۔ محمود 2
کہ کوی مسلہ نفس الامر میں تو مدلل ہو لیکن عمل کرنے والا دلیل کا مطالبہ نہ کرے محض حسن ظن اور اعتماد پر عمل کرے کہ یہ مسلہ یقیناً کسی نہ کسی دلیل شرعی سے ثابت ہے
یہاں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ غیر مقلیدین حضرات تقلید مزموم والی تعریف تو سناتے ہیں لیکن تقلید محمود والی چھپاتے ہیں ۔ میرے بھای اسطرح تو مشکوٰۃ شریف سے حدیث پڑھ کر عمل کرنے والا بھی مقلد ہے کیونکہ اس میں نہ سندیں موجود ہیں نہ سندوں کی تحقیق ہے ۔
کسی حدیث کا صحیح یا ضعیف ہونا یا کسی راوی کا معتبر یا غیر معتبر ہونا بھی امتیوں کے اجتہاد سے معلوم ہوتا ہے ان پر اعتماد کر کے کسی حدیث کو صحیح کسی کو ضعیف کہنا یا کسی راوی کو ثقہ اور کسی کو ضعیف کہنا بھی تقلید ہے ۔

خلاصہ

خلاصہ میں ایک جگہ رشد بھای لکھتے ہیں کہ:
" اس سے پتا چلا کہ دلایل یعنی قرآن و حدیث یا اجماع کو دیکھے بغیر یا پس پشت ڈالتے ہوے کسی امتی کے قول فعل کو اپنے لیے حجت ماننا تقلید کہلاتا ہے۔تقلید کرنے والا یعنی مقلد یہ نہیں دیکھتا کہ اللہ اور اسکے رسولﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے امام جن کی وہ تقلید کرتا ہے کیا کرتے اور کیا فرماتے ہیں۔ "

میرے خیال سے رشد بھای نے بات کو سمجھا نہیں ہے ۔۔ جیسا کے میں نے اوپر تقلید کی اصطلاحی تعریف جو بیان کی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ مقلد جسکی تقلید کرتا ہے اسکے بارے میں مقلد کو یقین ہوتا ہے کہ اسکے پاس دلیل ہے ۔۔۔ اب سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مقلد دلیل کیوں نہیں مانگتا ۔۔ تو اسکا جواب یہ ہے کہ اگر میں ڈاکٹر کے پاس جاوں اور ڈاکٹر مجھے ٹیکا لگاے گا تو میں ڈاکٹر سے یہ نہیں پوچھ سکتا کہ اس ٹیکے کی دلیل کیا اور اگر میں پوچھ بھی لوں اور ڈاکٹر مجھے دلیل بتا بھی دے تو اس سے مجھے کیا فاءیدہ ہو گا ۔۔۔ جس طرح ایک مریض ڈاکٹر سے کسی چیز کی کوی دلیل نہیں پوچھتا اسی طرح مقلد بھی مجتہد سے دلیل نہیں پوچھتا ۔۔۔ مقلد کے لیے عمل کی حد تک دلیل کی معرفت ضرور نہیں کہ اگر دلیل کا علم ہوا تو عمل کرے گا ورنہ نہیں ، بلکہ دلیل ہے لیکن مقلد کے لیے اس کی معرفت ضروری نہیں ، تقلید کی تعریف خود دلیل کے موجود ہونے پر دلالت کر رہی ہے ، من غیر نظر، من غیر تامل، بلا نظر فی الدلیل، دلیل موجود ہے تبھی تو من غیر نظر الیہ ہے ، ورنہ تو اتباع الانسان غیرہ فی ما یقول او یفعل معتقداً للحقیۃ بلا دلیل ہونا چاہیے تھا ، من غیر نظر الی الدلیل کی وضاحت خود تعریف میں موجود ہے ای: من غیر مطالبۃ دلیل ہے لیکن تقلید اس کے مطالبے پر موقوف نہیں ، اگر دلیل کا علم ہو تو سونے پر سوہاگہ، ورنہ دلیل کی معرفت اور دلیل کو متعین کرنا یہ مجتہد کا کام ہے اور ہم ہر ایک کو مجتہد تسلیم نہیں کرتے ، ہم صرف انہیں مجتہد تسلیم کرتے ہیں جن کے اجتہاد پر اجماع ہو۔ اس سے پتا چلا کہ مقلد کو امام تمام مسایل قرآن اور حدیث سے ہی استدلال کر کے بتلا رہا ہے لیکن دلیل دینا ضروری نہیں ۔۔۔ اسکی مثال ایسے لیں کہ ایک شخص جو جاہل ہے اور سڑک پر ریہڑی لگا کر سبزیاں بیچتا ہے اگر اسکو کوی مسلہ پیش آے تو اسکو صرف اپنے مسلہ کے حل کی فکر ہو گی نہ کہ وہ دلیلیں مانگتا پھرے گا ۔۔۔۔

اصول کرخی :۔

اصول کرخی میں علامہ کرخیؒ نے جو اصول بتایا ہے اس میں کوی بھی خرابی نہیں ، اسلام چونکہ 23 سال میں مکمل ہوا ایک ہی دن میں سارے کا سارا دین نہیں اترا اسی لیے ناسخ و منسوخ کا سلسلہ چلتا رہا اور اس پر علماء نے مستسقل کتابیں لکھیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کے احکامات منسوخ ہوے مثال کے طور پر علامہ جلال الدین السیوطیؒ کی کتاب الاتقان اس مسلہ پر ہے جس میں انہوں نے قرآن کے اندر ناسخ و منسوخ پر تفصیلی بحث کی ہے ۔ اسی لیے جو اصول علامہ کرخی نے بتایا ہے وہ بلکل ٹھیک ہے کہ جو اگر ہمیں کو حدیث احناف کے مسلہ کے خلاف ملے گی اسکے بارے میں ہم یہ ہی کہیں گے کہ یہ آخری دور کا عمل نہیں بلکہ پہلے ہوتا تھا پھر منسوخ ہو گیا ۔ مثال کے طور پر رفع یدین کا عمل ، جو کہ پہلے ہوتا تھا بعد میں احناف کے نزدیک مسنوخ ہو گیا ۔ اور بھی کیء مثالیں اس مسلہ پر دی جا سکتی ہیں ۔ اس مسلہ کو غیر مقلدین بھی مانتے ہیں ۔ اگر نہیں تو وہ لکھ دیں کہ انکے نزدیک دین اسلام میں کوی بھی چیز یا مسلہ منسوخ نہیں ہوا اور جو علما ناسخ و منسوخ کے قایل ہیں وہ بھی گمراہ ہیں ۔ اگر قایل ہیں تو پھر احناف پر تنقید کرنے کی وجہ ؟؟؟

ذمی کے معاہدہ کا مسلہ :۔

طالب نور (رشد) صاحب نے ذمی کی گستاخی پر معاہدہ نہ ٹوٹنے کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ احناف گستاخِ رسول کو کوی سزا دینے کے قایل نہیں ہیں ۔ حلانکہ مسلہ الگ ہے ۔ ذمی کے گستاخی کرنے سے اسکی سزا کا مسلہ الگ ہے اور معاہدہ ٹوٹنے کا مسلہ الگ ہے ۔۔ لیکن رشد صاحب نے اپنی کم علمی کی وجہ سے اسکو ایک ہی سمجھ لیا ۔

صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ اس کفر کے باوجود جب اس سے جزیہ لے کر اس کو ذمی قرار دیا گیا ہے تو حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا بھی کفر ہے جب وہ پہلے بھی کافر تھا اور یہ کفریہ حرکت بھی اس نے کی تو اس سے اس کا عہد نہیں ٹوٹتا۔ یہاں صرف عہد نہ ٹوٹنے کا مسلہ ہے ۔ باقی رہا یہ کہ اس کو سزا دینا تو اس کے بارہ میں علامہ ظفر احمد عثمانیؒ علماہ ابن حزم کے احناف پر طعن کا جواب دیتے ہوے لکھتے ہیں :

قلت فریۃ بلا مریۃ و قد استو فینا الکلام علی المسلۃ فی کتاب الجہاد و حققنا قول الحنفیۃ فی الباب انھم قاءیلون یقتل من سب اللہ ورسولہ جھار ابمالا یدینہ سواء کان مسلما او ذمیا رجلا اوامراء فلیراجع۔
(اعلاء السنن جلد 11 صفحہ 532)۔

میں کہتا ہوں کہ یہ بے شک بہتان ہے اور ہم نے کتاب الجہاد میں اس بارہ میں تفصیلی کلام کیا ہے اور ہم نے احناف کے قول کو اس بارہ میں واضح کیا ہے کہ وہہ ایسے آدمی کو قتل کر دینے کا نظریہ رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو علانیہ برا بھلا کہے خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمی ہو ۔ مرد ہو یا عورت ہو تفصیل کتاب الجہاد میں دیکھیں ۔

جب احناف ایسے آدمی کو قتل کرنے کا نظریہ رکھتے ہیں تو یزدانی صاحب کو ان پر بہتان باندھنے سے پہلے فکر آخرت کر لینی چاہیے تھی ۔

مولوی عامر عثمانی مودودی اور مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب کے حوالہ جات:۔

مولوی عامر عثمانی صاحب نے دارلعلوم دیوبند میں پڑھا تھا لیکن وہ ایک اچھے طالب علم نہ تھے اور اکثر غیر حاضر رہا کرتے تھے ۔۔۔ فارغ ہونے کہ بعد انہوں نے دارلعلوم میں مدرس ہونے کی درخواست دی لیکن چونکہ استاذہ زیادہ اپنے طالب علم کی حالت کو جانتے تھے اسی لیے انہوں نے انکو وہاں مدرس نہ رکھا بار بار درخواست دینے پر بھی جب انکو مدرس نہ رکھا گیا تو وہ دارلعلوم سے جیلس ہو گیء اور مودودی صاحب کے ساتھ شامل ہو گےء ۔۔۔ اور مودودی صاحب کے کہنے پر انہوں نے رسالہ تجلی کا آغاز کیا ۔۔۔ مولوی عامر عثمانی صاحب ہم دیوبندیوں کے لیے کوی حثیت نہیں رکھتے ۔۔۔ نہ ہی ہم انکو ایک دیوبندی تسلیم کرتے ہیں ۔۔۔ یہی حال مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب کا ہے وہ بریلویوں کے بزرگ ہیں ہر چند کے حنفی ہیں لیکن چونکہ کچھ مسایل میں گمراہ ہیں اسی لے بتقاضہ احتیاط ہم انکی باتیں فقہ میں بھی تسلیم نہیں کرتے اسی لیے میں ان بزرگوں کی عبارات کا جواب دینا بلکل فضول سمجھتا ہوں ۔۔۔

حضرت شیخ الہندؒ کی عبارت کا غلط مفہوم :۔

رشد صاحب نے یہ حوالہ جو حضرت کی تقریر ترمذی کا ہے اپنے کسی عالم کی کتاب سے نقل کیا ہے ۔۔۔میرا خام خیال ہے کہ یہ حوالہ " احناف کا رسول اللہﷺ سے اختلاف " سے نقل کیا ہے ۔ حضرت شیخ الہندؒ کی عبارت ۔۔۔ نحن المقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفہ
( تقریر ترمذی صفحہ 36)۔

اگر کسی صاحب نے تعصب کی پٹی آنکھوں پر نہ باندھی ہوی ہو تو وہ تقریر ترمذی دیکھ سکتا ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے بایع اور مشتری کو خیار مجلس حاصل ہونے یا نہ ہونے کے مسلہ کی وضاحت کرتے ہوے فرمایا کہ اسمیں امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہؒ کا اختلاف ہے اور دونوں نے اپنے اپنے نظریہ کا مدار قیاس پر رکھا ہے ۔

اس لیے کہ اس بارہ میں کوی واضح روایت موجود نہیں ہے۔ اور فرمایا کہ حق اور انصاف کی بات یہ ہے کہ اس مسلہ میں امام شافعیؒ کو ترجیح حاصل ہے۔ اور چونکہ امام ابو حنیفہؒ کے مقلد ہیں اس لیے ہمیں اپنے امام کی تقلید واجب ہے ۔ جب امام شافعیؒ کے نظریہ کا مدار بھی اس مسلہ میں قیاس پر ہے اور ان کا قیاس احناف کے لیے حجت نہیں تو حنفی پر اپنے امام ہی کے قیاس پر عمل واجب ہے تو اسی قاعدہ کی حضرت شیخ الہندؒ نے وضاحت کی ہے۔ اس میں نہ تو حدیث کی مخالفت ہے اور نہ ہی حضرت شیخ الہندؒ نے نحن المقلدون کا جملہ حدیث کے مقابلہ میں کہا ہے بلکہ یہ امام شافعیؒ کے قیاس کے مقابلہ میں کہا ہے اس لیے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے واضح طور پر فرمایا :۔ " و الحدیث لیس بمصرح للترجیح بل المرحج القیاس فنحن لا ترتکب خلاف الحدیث بل نخالف قیاس الشافعی و قیاسہ بحجۃ علینا۔ "
( تقریر ترمذی صفحہ 35)۔

" اور حدیث ترجیح کی صراحت نہیں کرتی بلکہ مرجع قیاس ہے تو ہم حدیث کے خلاف کے مرتکب نہیں بلکہ امام شافعیؒ کے قیاس کی مخلافت کرتے ہیں اور انکا قیاس ہمارے خلاف حجت نہیں ہے ۔"

ملنگ
01-03-2010, 12:43 AM
تقلید اور قرآن:۔

رشد صاحب نے ایک ہیڈنگ دی ہے جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کوشش کی ہے کہ قرآن میں تقلید کا کہیں بھی زکر نہیں اور اس بات کو بتا کر وہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چونکہ قرآن میں کہیں بھی تقلید کا حکم نہیں ہے اسی لیے قرآن تقلید کا رد کرتا ۔۔ کتنی جاہلانہ بات ہے ۔ اگر کہیں کسی چیز کا زکر نہ ہو تو اسکا یہ مطلب کیسے بنا کہ وہ اسکا انکاری ہو گا ۔۔ یہ تو منکرینِ احادیث والی بات ہے کہ قرآن میں 5 نمازوں کا زکر نہیں اسی لے قرآن باقی دو کا رد کرتا ہے ۔ اسکے نیچے انہوں نے سورۃ بقرۃ کی آیت لکھی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو ۔
یعنی اگر احناف یہ کہتے ہیں کہ قرآن تقلید کا حکم دیتا ہے تو ہم انکو دلیل دیں ۔
تو جناب ہم آُکا یہ شوق بھی پورا کر دیتے ہیں ۔

دلیل:۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں [۱۰۳] پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر [۱۰۴] یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام [۱۰۵]

اس آٰیت میں اولی الامر سے مراد فقہا ہیں۔مستدرک حاکم میں ہے :

"قال جابر بن عبداللہ: ( اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم) ، قال: اولی الفقہ والخیر۔۔۔۔۔۔۔ وتفسیر الصحابی عندھما مسند۔۔۔۔۔ قال ابن عباس: یعنی اھل الفقہ والذین۔۔۔۔۔۔ فاوجب اللہ طاعتھم"
(مستدرک حاکم، کتاب العلم: جلد 1 صفحہ 133)۔

"حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے ارشاد ( اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم) میں "اولی الامر" سے مراد فقہاء ہیں۔۔۔۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: " اولی الامر" سے مراد فقہا ہیں ، اللہ نے ان کی اطاعت واجب کی ہے ۔

قال عطاء بن ابی رباحؒ : اولو الامر اولو العلم الفقہ"
(سنن الدرامی، باب القدراء بالعلماء: جلد 1 صفحہ 83)
عطاء بن ابی رباحؒ فرماتے ہیں کہ "اولی الامر" سے مراد علماء اور فقہا ہیں"۔

تقلید اور صحابہ:۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ صحابہ کرام خود مقلد تھے ۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں فاءن علم ان مقلدہ مصیب۔۔۔۔ کتقلید الرسول او اھل الاجماع۔۔۔ فقد قلدہ بحجۃ
" اگر مقلد کو یقین ہو کہ وہ جس کی تقلید کر رہا ہے وہ خود راہ راست پر ہے تو یہ تقلید درست ہے کہ تقلید کا مع الدلیل ہے جیسے صحابہ کرام کا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تقلید کرنا اور عام مومنین کا اہل اجماع کی تقلید کرنا۔"
(مجموعۃ الفتاویٰ جلد 20 صفحہ 14)

کتقلید الرسول اضافت المصدر الی الفاعل یعنی تقلید الرسول الصحابۃ کا قایل تو کوی بھی نہیں لامحالہ اضافۃ المصدر الی المفعول مانیں گے اور فاعل محذوف ہو گا کہ " کتقلید الصحابۃ الرسول" صحابہ مقلِد اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم مقلَد ہوے۔

علامہ ابن تیمیہ کی عبارت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اہل اجماع کی تقلید درست ہے کیونکہ وہ تقلید بحجۃ ہے ، اور آیمہ اربعہ کے اہل اجماع ہونے میں شک نہیں، لہذا ایمہ اربعہ کی تقلید درست ہے ، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تقلید علی الاطلاق مذموم نہیں بلکہ تقلید محمود بھی ہوتی ہے ۔
شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں: " فاعلم ان الصحابۃ لا یقلدون الا صاحب الشرع"

واضح رہے کہ صحابہ کرام صرف رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تقلید کرتے تھے ۔ صراحتاً صاحبہ کو مقلد قرار دیا گیا ہے ۔

دوسری دلیل:۔

"عن حذیفہؓ: " قال رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم: اقتدوا باللذین من بعدی، ابی بکر و عمر"۔ رواہ الترمذی، وقال: ھذا حدیث حسن"
"حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا ( جومیرے جانشین ہوں گے) اور وہ ابوبکر و عمر ہیں"۔
(سنن الترمذی، کتاب المناقب، مناقب ابی بکر الصدیق: جلد2 صفحہ 208)۔

اس حدیث میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم صاف طور پر حضرت ابو ابکر اور حضرت عمر کی تقلید کا حکم دے رہے ہیں ۔ اور حکم کس کو دے رہے ہیں ؟؟؟ ظاہری بات ہے جن سے خطاب ہے وہ صحابہ ہی ہیں ۔ یعنی نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم صحابہ کو اپنے بعد صحابہ کی ہی تقلید کا حکم دے رہے ہیں ۔

تیسری دلیل:۔

حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا گیا کہ طواف کے بعد عورت کو حیض آجاے تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا لوٹ جاے، اہل مدینہ نے کہا"لانا حذ بقو لک وندع قول زید"
(الصحیح البخاری، کتاب الحج ، باب ازا حاضت المراءۃ بعد ما افاضت: جلد 1 صفحہ 237)
" عن عکرمۃ ان اھل المدینہ سالوا ابن عباس عن امراۃ طافت ثم حاضت، قال لھم: تنفر، قالوا: لانا خذ بقولک، وندع قول زید بن ثابت۔۔۔۔۔۔ وفی روایۃ الثقفی: لانبالی بقولک افتیتنا اولم تفتنا، لا نتا بعک وانت تخالف زیدا"

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے طواف کے بعد حیض آجاے، حضرت ابن عباس نے فرمایا: وہ واپس جا سکتی ہے ، اہل مدینہ نے کہا: ہم زید بن ثابت کی بات چھوڑ کر آپ کی بات نہیں مانتے ۔۔۔۔۔ ثقفی کی روایت میں ہے: آپ ہمیں فتویٰ دیں یا نہ دیں، ہمیں آپ کے فتویٰ کی پرواہ نہیں اور نہ ہی ہم آپ کی بات مانیں گے کہ آپ زید بن ثابت کی مخالفت کرتے ہیں "
(فتح الباری، کتاب الحج، باب اذا حاضت المراءۃ بعد ما افاضت جلد 3 صفحہ 749)

یہاں پر اہل مدینہ صاف اور واضح طور پر حضرت ابن عباسؓ کی بات کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں یعنی تقلید شخصی کر رہے ہیں حضرت زید بن ثابت کی اور حضرت ابن عباسؓ نے ان پر اس وجہ سے کوی تنقید نہیں کی اور نہ ہی حضرت نے فتویٰ دیتے وقت کوی دلیل دی ۔ نہ کوی قرآن کی آٰیت پیش کی نہ ہی کوی حدیث سنای ۔

یہ بات غیر مقلدین کے لیے ننگی تلوار سے کم نہیں ۔ غیر مقلدین اپنی ضد کی وجہ سے نہ اسکو مانیں گے نہ ہی تقلید کریں گے ۔

تقلید اور صلف الصالحینؒ:۔

صلف الصالحین ہمیشہ سے تقلید کرتے اور کرواتے رہے ہیں ۔ چناچہ علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
"والذی علیہ جماھیر الامۃ ان الاجتھاد جایز فی الجملۃ، والتقلید جایز فی الجملۃ، لا یوجبون الاجتھاد علی کل احد و یحرمون التقلید، ولا یوجبون التقلید علی کل احد ویحرمون الاجتھاد، وان الاجتھاد جایزللقادر علی الاجتھاد، والتقلید جایز للعاجز عن الاجتھاد"
" جمہور امت کا مذہب یہ ہے فی الجملہ اجتہاد بھی جایز ہے اور تقلید بھی، ایسا نہیں کہ ہر ایک پر اجتہاد واجب اور تقلید حرام ہو اور نہ ہی ہر ایک پر تقلید واجب اور اجتہاد حرام ہے بلکہ جو اجتہاد پر قدرت رکھتا ہے اس کے لیے اجتہاد کرنا جایز ہے اور اجتہاد سے عاجز ہو اس کے لیے تقلید کرنا جایز ہے"۔
(مجموعۃ الفتاویٰ جلد 20 صفحہ 113)۔

اگر تقلید کوی بری چیز ہوتی تو علامہ ابن تیمیہؒ جنکو غیر مقلدین اپنا پیشوا اور خود اپنی طرح غیر مقلد مانتے ہیں ، تقلید کو جایز نہ کہتے ۔ عبارت سے یہ بھی پتا چلا کہ عاجز عن الاجتہاد کے لیے تقلید جایز ہے ۔ اجتہاد چونکہ ہر کس و ناکس کا کام نہیں، اس کے لیے علوم و فنون میں بختگی و مہارت کے ساتھ ساتھ تقویٰ کی صفت سے متصف ہونا بھی ضروری ہے ۔ غیر مقلدین تو درجہ اجتہاد سے کوسوں دور ہیں لیکن پھر بھی تقلید حرام وشرک قرار دیتے ہیں۔ یہ انصاف کے مراحل سے بعید ہے۔

پھر آگے چل کر اجتہاد و تقلید پر بحث کرتے ہوے فرماتے ہیں :۔

"ولا یخلو امر الداعی من امرین: الاول ان یکون مجتھداً او مقلداً فالمجتھد ینظرفی تصانیف المتقدمین من القرون الثلاثۃ ثم یرجع ما ینبغی ترجیحہ، الثانی: المقلد یقلد السلف: اذ القرون المتقدمۃ افضل مما بعدھا'
" دین کا داعی دو حال سے خالی نہیں، مجتہد ہو گا یا مقلد، مجتہد قرون ثلاثہ کے متقدمین کی تصانیف سے مستفید ہو کر راجح قول کر ترجیح دیتا ہے اور مقلد سلف کی تقلید کرتا ہے ، کیونکہ ابتدای صدیاں بعد والوں سے افضل ہیں"۔
(مجموعۃ الفتاویٰ جلد 20صفحہ 9)۔

یہاں بھی دو قسمیں ہی بیان کیں مجتہد اور مقلد ، سلف کی تحقیقات میں غور و خوص کے بعد کسی کو ترجیح دینا مجتہد کوی ہی زیب دیتا ہے، اگر غیر مقلدین اپنے کو مجتہد شمار رکریں تب تو انہیں تقلید سے چھٹکارہ مل سکتا ہے وگرنہ تقلید متعین ہے اور تقلید میں بھی علامہ ابن تیمیہ سلف کی تقلید کو ترجیح دیتے ہیں ، جب کہ غیر مقلدین عام لوگوں کو ورغلا کر سلف کی تقلید سے بیزار اور اپنی تقلید کی دعوت دیتے ہیں ، جو ہرگز درست نہیں۔

امام ابن القاسم (یہ صحیح بخاری صحیح نسای وغیرھما کے ثقہ راوی ہیں ) نے امام مالک المدنی وغیرہ امتیوں کے اقوال کی تقلید کی ہے دیکھیے (الالمدونۃ الکبریٰ)
امام ابن وھب (یہ صحیح بخاری و مسلم و سنن اربعہ کے ثقہ راوی ہیں) نے امام مالک المدنی وغیرہ امتیوں کے اقوال و افعال تقلیداً لیے ہیں دیکھیے کتاب القدر لابن وھب الجامع فی الحدیث لاابن وھب وغیرھما) یادرہے جو خود تقلید کرتا ہے وہ دوسروں کو کیسے منع کرے گا۔

امام وکیع بن الجراح ( یہ صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن اربعہ کے ثقہ راوی ہیں) انہوں نے بغیر مطالبہ دلیل امتیوں کے اقوال خصوصاً امام اعظم ابوحنیفہؒ تابعی کے اقوال کو تقلیداً لیتے اور اس پر فتویٰ دیتے ھتے ۔ یفتی بقول ابی حنیفہؒ ۔ دیکھیے کتاب السنن الوکیع وغیرہ، اخبار ابی حنیفہؒ اصحابہ للصمیری ص 149 و تاریخ بغداد للخطیب ج 12 ص 27 و تذکرۃ الحفاظ للذھبی ج 1 ص 224 والعربی للذھبی ج 1 صفحہ 163 و تہذیب الابن حجر جلد 6 صفحہ 82 وغیرھما) یاد رہے جو خود تقلید کرتا ہے وہ کسی اور کو تقلید سے کیسے منع کرے گا۔

امام یحیٰ بن سعید القطان (یہ صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن اربعہ کے ثقہ راوی ہیں) نے امام ابوحنیفہؒ تابعی وغیرہ کے اقوال بغیر مطالبہ دلیل تقلیداً لیتے اور امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیتے تھے ویفتی بقول ابی حنیفہ وقد اخذنا پاکثر اقوالہ دیکھے (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص 149،دالانتقال ء لابن عبدالبر ص 203-204، وتاریخ بغداد للخطیب جلد 12 ص 27،تذکرۃ الحفاظ للذھبی جلد1 ص 224، والعبر للذھبی جلد1 ص 163وتہذیب لابن حجر ج 5 ص 630 وغیرھما) یادرہے جو خود تقلید کرتا ہے وہ کسی اور کو کیسے منع کرے گا ۔

اس طرح کے ہزاروں ثبوت صلف الصالحین کے مقلد ہونے کے آپ کو کتابوں میں مل سکتے ہیں ۔ کچھ اور مثالوں کے لیے علامہ عبدالغفار ذہبی کی کتاب زبیر علیزی کے 100 جھوٹ دیکھیں۔

صلف الصالحین اور تقلید پر رد:۔

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں ۔
۔1۔ محمود
۔2۔ مذموم
جہاں کہیں بھی صلف الصالحین نے تقلید کا رد کیا ہے انہوں نے مذموم تقلید کا رد کیا ہے علماء اور صلحا کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ انہوں نے جہاں محمود تقلید پر دلایل دیے ہیں وہاں پر مذموم تقلید کا رد بھی کیا جیسا کہ مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب کی کتاب الکلام المفید میں ہے ، جہاں حضرت نے محمود تقلید پر دلایل دیے ہیں وہیں پر مذموم تقلید کا رد بھی کیا ہے ۔


امام طحاوی حنفیؒ اور تقلید :۔

رشد صاحب نے لکھا کہ امام طحاوی حنفیؒ سے مروی ہے کہ تقلید تو صرف وہی کرتا ہے جو متعصب اور بےوقوف ہو ۔ (لسان المیزان جلد 1 صفحہ 280) اور عربی عبارت نقل نہیں کی ۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن گنگوہیؒ اس کا جواب دیتے ہوے لکھتے ہیں (جسکو میں آسان اردو میں یہاں لکھ دیتا ہوں)۔

کہ بالجمہ قول طحاوی ثبوت تقلید کے خلاف نہیں ۔ اسکے علاوہ امام طحاویؒ کی بات کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے ۔ مگر پہلے "غباوۃ" کا مطلب جاننا چاہیے ۔ غباوۃ کا مطلب عربی میں نادانستگی کے ہیں ۔ چناچہ قاموس میں ہے غمی الشی لم یفطن لہ سواب اس جملہ کا یہ مطلب ہوا کہ تقلید یا تو متعصب کا کام ہے یا ناواقف کا( نوٹ کریں کہ جو ترجمہ رشد صاحب نے کیا ہے اس میں بےوقوف کا لفظ ہے جبکہ مولانا محمود الحسنؒ نے ناواقف کا لفظ استعمال کیا ہے )۔یعنی تقلید یا تو وہ شخص کرتا ہے کہ جو خود ناواقف ہے اور بضرورت اوروں کے اقوال کا اتباع کرتا ہے اور یا تقلید اس شخص کا کام ہے کہ بوجہ تعصب کسی کے قول پر اصرار کرتا ہے یعنی باوجود اس امر کے کہ خود اس شخص کو بھلے برے کی تمیز ہے اور ایک دوسرے پر ترجیح دے سکتا ہے اور پھر بھی قول مرجوح پر ہی اڑ کرتا ہے۔ تو اب یہ جملہ بعینیہ ایسا ہے کہ جیسا کوی کہے کہ اجتہاد یا تو اس کا کام ہے کہ جو اعلیٰ درجہ کا عالم اور ذکی ہو اور یا اس کا کام ہے کہ جو پرلے سرے کا کم فہم اور قلیل الحیاء ہو تو جیسا اس فقرہ سے بداہتہً یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عالم ذکی کو تو ضرور اجتہاد کرنا چاہیے اور جاہل بدفہم کو ہرگز نہ چاہیے بعینیہ ایسا ہی جملہ سابقہ کا ما حصل ہو جاے گا یعنی غبی ناواقف کو تو ضرور تقلید کرنی چاہیے ۔ اور واقف کار کو بوجہ تعصب ہرگز نہ چاہیے سو امام طحاویؒ کا خلاصہ کالام یہ ہوا کہ میں امام صاحب کے جملہ اقوال کا قایل نہیں ہوں کیونکہ اس قسم کی تقلید یا تو اس کا کام ہے کہ جو متعصب ہو یا اس کے مناسب ہے کہ جو غبی و ناواقف ہو سو امام طحاویؒ غبی تو نہیں اس قسم کی تقلید اگر کریں گے تو قسم اول یعنی متعصبین میں داخل ہوں گے اور یہ مذموم ہے یاں جو اشخاص کہ مرتبہ ترجیح و اجتہاد نہیں رکھتے وہ قسم اول میں داخل ہیں ان کو تقلید کرنا چاہیے۔

اس کے بعد عرض ہے کہ مجتہد بھی دو قسم کے ہوتے ہیں اور بموجب کلام طحاوی مقلد بھی دو طرح کے ہیں سو اگر آپ مجتہد ہیں تو ارشاد فرماءیں کہ کس قسم میں داخل ہیں اور اگر مقلد ہو تو کس قسم میں داخل ہو غالباً آپکو (یعنی غیر مقلدین کو ) تو درجہ اجتہاد ہی مرغوب محبوب ہو گا اگرچہ دوسری ہی قسم کے سہی مگر ہمارے نزدیک جو حق ہے وہ یہ ہے کہ آجکل کے مجتہدین کے مناسب مرتبہ تقلید ہے اور وہ بھی مرتبہ ثانی یعنی تقلید بوجہ غباوت و ناواقفی میری یہ عرض اکثر حضرات کو غالباً خلاف واقع معلوم ہو گی ۔ مگر جو صاحب چشم انصاف سے نظر کریں گے انشااللہ دعوے احقر کی تصدیق فرماءیں گے ۔ کیونکہ غباوت اور ناواقفی سے تو یہ مراد ہی نہین کہ ان کو کسی قسم کا علم ہو ہی نہیں ۔ بلکہ سب جانتے ہیں کہ غبی سے مراد اس جگہ وہ شخص مراد ہے کہ جو طریقہ استنباط مسایل و استخراج احکام و ترجیح بین الاقوال سے بے بہرہ اور ناواقف ہو سو ایک مقدمہ یعنی غبی کے مناسب حال تقلید ہے جو کہ کلام طحاوی سے مفہوم ہوتا ہے ۔ دوسرا مقدمہ یعنی صغریٰ بدیہی ہے مثلاً یوں کہیں " فلاں غبی و کل غبی ینبغی لہ ان تقلید وغیرہ" تو نتیجہ یہ نگلے گا "فلاں ینبغی لہ ان یقلد غیرہ" کبریٰ کا مسلمات میں سے ہونا تو عرض ہی کر چکا ہوں باقی صغریٰ کی بداہتہً۔اور میری راے میں تو یہ جملہ امام طحاوی کا ان کے زمانہ میں البتہ درست تھا اور اب تو معاملہ مالعکس نظرآتا ہے ۔ یعنی اب تو یوں کہنا چاہیے کہ " مل یجتہد الاعصبی او غبی" اور جن حضرات کو دونوں وصف میں سے کچھ کچھ حصہ ملا ہے ۔
۔(ایضاح الادلہ صفحہ 43-44)۔

Salafi
01-31-2010, 02:55 AM
تیسری دلیل:۔





حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا گیا کہ طواف کے بعد عورت کو حیض آجاے تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا لوٹ جاے، اہل مدینہ نے کہا"لانا حذ بقو لک وندع قول زید"

(الصحیح البخاری، کتاب الحج ، باب ازا حاضت المراءۃ بعد ما افاضت: جلد 1 صفحہ 237)
" عن عکرمۃ ان اھل المدینہ سالوا ابن عباس عن امراۃ طافت ثم حاضت، قال لھم: تنفر، قالوا: لانا خذ بقولک، وندع قول زید بن ثابت۔۔۔۔۔۔ وفی روایۃ الثقفی: لانبالی بقولک افتیتنا اولم تفتنا، لا نتا بعک وانت تخالف زیدا"





حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے طواف کے بعد حیض آجاے، حضرت ابن عباس نے فرمایا: وہ واپس جا سکتی ہے ، اہل مدینہ نے کہا: ہم زید بن ثابت کی بات چھوڑ کر آپ کی بات نہیں مانتے ۔۔۔۔۔ ثقفی کی روایت میں ہے: آپ ہمیں فتویٰ دیں یا نہ دیں، ہمیں آپ کے فتویٰ کی پرواہ نہیں اور نہ ہی ہم آپ کی بات مانیں گے کہ آپ زید بن ثابت کی مخالفت کرتے ہیں "

(فتح الباری، کتاب الحج، باب اذا حاضت المراءۃ بعد ما افاضت جلد 3 صفحہ 749)





یہاں پر اہل مدینہ صاف اور واضح طور پر حضرت ابن عباسؓ کی بات کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں یعنی تقلید شخصی کر رہے ہیں حضرت زید بن ثابت کی اور حضرت ابن عباسؓ نے ان پر اس وجہ سے کوی تنقید نہیں کی اور نہ ہی حضرت نے فتویٰ دیتے وقت کوی دلیل دی ۔ نہ کوی قرآن کی آٰیت پیش کی نہ ہی کوی حدیث سنای ۔




یہ بات غیر مقلدین کے لیے ننگی تلوار سے کم نہیں ۔ غیر مقلدین اپنی ضد کی وجہ سے نہ اسکو مانیں گے نہ ہی تقلید کریں گے ۔






:bism:

ملنگ
01-31-2010, 08:59 PM
جزاک اللہ خیر سلفی بھای ، معجم اسماعیلی کی روایت میری نظر سے نہیں گزری تھی ۔ بہرحال پھر بھی موقف میرا ہی ثابت ہوتا ہے ۔

امام طحاوی حنفیؒ اور تقلید :۔

رشد صاحب نے لکھا کہ امام طحاوی حنفیؒ سے مروی ہے کہ تقلید تو صرف وہی کرتا ہے جو متعصب اور بےوقوف ہو ۔ (لسان المیزان جلد 1 صفحہ 280) اور عربی عبارت نقل نہیں کی ۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن گنگوہیؒ اس کا جواب دیتے ہوے لکھتے ہیں (جسکو میں آسان اردو میں یہاں لکھ دیتا ہوں)۔

کہ بالجمہ قول طحاوی ثبوت تقلید کے خلاف نہیں ۔ اسکے علاوہ امام طحاویؒ کی بات کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے ۔ مگر پہلے "غباوۃ" کا مطلب جاننا چاہیے ۔ غباوۃ کا مطلب عربی میں نادانستگی کے ہیں ۔ چناچہ قاموس میں ہے غمی الشی لم یفطن لہ سواب اس جملہ کا یہ مطلب ہوا کہ تقلید یا تو متعصب کا کام ہے یا ناواقف کا( نوٹ کریں کہ جو ترجمہ رشد صاحب نے کیا ہے اس میں بےوقوف کا لفظ ہے جبکہ مولانا محمود الحسنؒ نے ناواقف کا لفظ استعمال کیا ہے )۔یعنی تقلید یا تو وہ شخص کرتا ہے کہ جو خود ناواقف ہے اور بضرورت اوروں کے اقوال کا اتباع کرتا ہے اور یا تقلید اس شخص کا کام ہے کہ بوجہ تعصب کسی کے قول پر اصرار کرتا ہے یعنی باوجود اس امر کے کہ خود اس شخص کو بھلے برے کی تمیز ہے اور ایک دوسرے پر ترجیح دے سکتا ہے اور پھر بھی قول مرجوح پر ہی اڑ کرتا ہے۔ تو اب یہ جملہ بعینیہ ایسا ہے کہ جیسا کوی کہے کہ اجتہاد یا تو اس کا کام ہے کہ جو اعلیٰ درجہ کا عالم اور ذکی ہو اور یا اس کا کام ہے کہ جو پرلے سرے کا کم فہم اور قلیل الحیاء ہو تو جیسا اس فقرہ سے بداہتہً یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عالم ذکی کو تو ضرور اجتہاد کرنا چاہیے اور جاہل بدفہم کو ہرگز نہ چاہیے بعینیہ ایسا ہی جملہ سابقہ کا ما حصل ہو جاے گا یعنی غبی ناواقف کو تو ضرور تقلید کرنی چاہیے ۔ اور واقف کار کو بوجہ تعصب ہرگز نہ چاہیے سو امام طحاویؒ کا خلاصہ کالام یہ ہوا کہ میں امام صاحب کے جملہ اقوال کا قایل نہیں ہوں کیونکہ اس قسم کی تقلید یا تو اس کا کام ہے کہ جو متعصب ہو یا اس کے مناسب ہے کہ جو غبی و ناواقف ہو سو امام طحاویؒ غبی تو نہیں اس قسم کی تقلید اگر کریں گے تو قسم اول یعنی متعصبین میں داخل ہوں گے اور یہ مذموم ہے یاں جو اشخاص کہ مرتبہ ترجیح و اجتہاد نہیں رکھتے وہ قسم اول میں داخل ہیں ان کو تقلید کرنا چاہیے۔

اس کے بعد عرض ہے کہ مجتہد بھی دو قسم کے ہوتے ہیں اور بموجب کلام طحاوی مقلد بھی دو طرح کے ہیں سو اگر آپ مجتہد ہیں تو ارشاد فرماءیں کہ کس قسم میں داخل ہیں اور اگر مقلد ہو تو کس قسم میں داخل ہو غالباً آپکو (یعنی غیر مقلدین کو ) تو درجہ اجتہاد ہی مرغوب محبوب ہو گا اگرچہ دوسری ہی قسم کے سہی مگر ہمارے نزدیک جو حق ہے وہ یہ ہے کہ آجکل کے مجتہدین کے مناسب مرتبہ تقلید ہے اور وہ بھی مرتبہ ثانی یعنی تقلید بوجہ غباوت و ناواقفی میری یہ عرض اکثر حضرات کو غالباً خلاف واقع معلوم ہو گی ۔ مگر جو صاحب چشم انصاف سے نظر کریں گے انشااللہ دعوے احقر کی تصدیق فرماءیں گے ۔ کیونکہ غباوت اور ناواقفی سے تو یہ مراد ہی نہین کہ ان کو کسی قسم کا علم ہو ہی نہیں ۔ بلکہ سب جانتے ہیں کہ غبی سے مراد اس جگہ وہ شخص مراد ہے کہ جو طریقہ استنباط مسایل و استخراج احکام و ترجیح بین الاقوال سے بے بہرہ اور ناواقف ہو سو ایک مقدمہ یعنی غبی کے مناسب حال تقلید ہے جو کہ کلام طحاوی سے مفہوم ہوتا ہے ۔ دوسرا مقدمہ یعنی صغریٰ بدیہی ہے مثلاً یوں کہیں " فلاں غبی و کل غبی ینبغی لہ ان تقلید وغیرہ" تو نتیجہ یہ نگلے گا "فلاں ینبغی لہ ان یقلد غیرہ" کبریٰ کا مسلمات میں سے ہونا تو عرض ہی کر چکا ہوں باقی صغریٰ کی بداہتہً۔اور میری راے میں تو یہ جملہ امام طحاوی کا ان کے زمانہ میں البتہ درست تھا اور اب تو معاملہ مالعکس نظرآتا ہے ۔ یعنی اب تو یوں کہنا چاہیے کہ " مل یجتہد الاعصبی او غبی" اور جن حضرات کو دونوں وصف میں سے کچھ کچھ حصہ ملا ہے ۔
۔(ایضاح الادلہ صفحہ 43-44)۔

Ghazi
02-01-2010, 07:41 AM
جزاک اللہ ملنگ بھائی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی احناف کا خوب دفاع کرکے لامذہبوں کی اصلیت دنیا کے سامنے اجاگر کی

Salafi
02-01-2010, 04:06 PM
جزاک اللہ خیر سلفی بھای ، معجم اسماعیلی کی روایت میری نظر سے نہیں گزری تھی ۔ بہرحال پھر بھی موقف میرا ہی ثابت ہوتا ہے ۔





Muhtaram bhai, agarcha aap ne ju likha wuh ic poore waq'e se la ilmi ki bina par tha laikin aap k muaqqif k ain mutabiq tha. yehi deobandiyyah ka muaqqif hai.





deobandi ulama yehi kehte hain k jab aik muqallid ne apne imam k madhhab k mutabiq kici masle par amal kiya tu yeh uc k liye kaafi hai. kisi daleel, ayat ya hadeeth ki zaroorat nahin.

beshak ic waq'e mein Ahl-e-hadeeth k liye yeh sabaq hai k ibn 'abbas ne Ahl-e-madinah par tanqeed nahin ki. na hi unko mushrik kaha. wuh zayd bin thabit se masla poochte thai unko zyada ilm wala samjhte thai. unka dil nahin mana. unhoon ne ibn 'abbas ke fatwa ku qubool nahin kiya. nahi unki daleel ku bina tahqeeq k mana.

magar

1) ibn 'abbas k Ahl-e-madinah ku unke usual mufti ya imam mujtahid k khilaaf masla batane,
2) Ahl-e-madinah ku apne muaqqif ki daleel batane,
3) phir uc ki tahqeeq aik sahibiyah se karne ku kehne

mein bhi kuch batein soochne k qabil hain.

mein kisi bhai ku yeh bata sakta hun k raf'ul yadayn karna chahiye. yeh aur yeh ahadeeth ic ki daleel hein. buhut se imam ic k qail hein aur tark ki riwayat ka zu'f bhi bata sakta hun. laikin agar wuh meri baat na mane aur tark raf' par qaim rahe tu mein uc ku ghalat nahin keh sakta. haan agar uc ku dil mein yaqeen hu k tark ki riwayat za'eef hein aur raf'ul yadayn sunnat hai phir bhi wuh tark par sirf taqleed shakhsi ki wajha se qaim rahe phir uc ne buhut hi ghalat rasta ikhtyar kiya. laikin mein dil ka haal janne wala nahin hoon. mein uc se muhabbat hi karoonga.

mera yeh muaqqif hai. (raf'ul yadayn sirf aik misaal thi na karne wala bhi mera bhai hai, agar dusre kaam ache kare tu raf'ul yadayn karne wale se zyada muhabbat ka haqdar hai).

Salafi
02-03-2010, 06:12 PM
http://www.haqforum.com/vb/threads/13355-Taqleed-Ka-Rad-Quranosunnah-Muqaladeen-Ki-Roshni-Mai?p=59495#post59495



Assalam-o-Alaikum!!! janab salafi sahab. Allah or us kay rasool S.A.W ki ataatham sab pai farz hai. Taqleed kay matlab k baray mai bht say logo mai misconceptions pai jati hai. Taqleed ka asal matlab hi kisi ki andha dhund, bila daleel perwi ko kehtay hai jaisa k upar bayan hai. Agar koi shaks hamay Allah ya Nabi S.A.W ka farman ya qol batata hai or wo authentic ho or agar hm wo baat man lay to ye ataat hai itiba hai Allah or Rasool S.A.W k hukam ki. Umeed hai ap samjay hogay. Jazak.Allah

Wa'alaikum assalam wrhmt wbrkt

yeh thread pehle se aap k mauzu par chal raha hai ic liye mein ne yahan guftugu karna munasib samjha.













Agar taqleed lafz ka istemal gunah hai tu pehle apne ghar ki khabar laini chahiye. yeh du adad jalil-ul-qadr shakhsiyaat kaun hain ?

aik ne kaha k taqleed mutlaq wajib hai dusre ne kaha k yeh mutanaz-e-fih nahin. dusre ne yeh bhi kaha k ic ka istimaal ghalat hai magar koi ic par musir hu tu hamein ic se behes nahin. aap kyun lafzi behes mein apni zindgi ka qeemti waqt zaya karte hain. Taqleed shakhsi ka radd likhen bakhushi likhein. ya phir nazeer hussain dehlvi aur inke ilawa buhut se deegar ahl-e-hadeeth/ salafi/ hanbali/ shafi'i/ hanafi ulama ka bhi radd karein ju ic lafz TAQLEED ku awaam k liye wajib qarar dete hein.

aur yeh bhi batain k agar aik jahil aadmi quran was sunnah ku parakh na sake tu wuh tahqeeq kaise kare ?

kya har shakhs par daleel ka janna lazim hai ?

quranosunnah
02-04-2010, 08:35 AM
assalam o alaikum salafi sahab.! beshak aksar ulma taqleed mutlaq wajib karar daitay hai. taqleed mutlaq mai bi daleel waziha hoti hai or jab daleel waziha hojae to taqleed shksi khatam. beshak taqleed mutlaq jaiz hogi par hamay taqleed ka lafz nai balkay ataat or itiba ka lafz istimal karna chahiye jaisa k quran o ahadees mai alfaz mojoud haii. Par agar koi taqleed mutlaq ka name use karay or amal karay to aksar ulma k nazdeek jaiz hai koi shak nai. jab kisi ki baat Allah or nabi s.a.w say takrae gi to wo rad hogi.

ملنگ
02-04-2010, 04:16 PM
mein kisi bhai ku yeh bata sakta hun k raf'ul yadayn karna chahiye. yeh aur yeh ahadeeth ic ki daleel hein. buhut se imam ic k qail hein aur tark ki riwayat ka zu'f bhi bata sakta hun. laikin agar wuh meri baat na mane aur tark raf' par qaim rahe tu mein uc ku ghalat nahin keh sakta. haan agar uc ku dil mein yaqeen hu k tark ki riwayat za'eef hein aur raf'ul yadayn sunnat hai phir bhi wuh tark par sirf taqleed shakhsi ki wajha se qaim rahe phir uc ne buhut hi ghalat rasta ikhtyar kiya. laikin mein dil ka haal janne wala nahin hoon. mein uc se muhabbat hi karoonga.

mera yeh muaqqif hai. (raf'ul yadayn sirf aik misaal thi na karne wala bhi mera bhai hai, agar dusre kaam ache kare tu raf'ul yadayn karne wale se zyada muhabbat ka haqdar hai).
salafi bhai khud hi insaaf sey scohain kia aik ami rajeh or marjooh , nasikh or mansookh ka faisla kar sakta hay ???? or ap to ese keh rahey hain jese rafaya dain ki aik do hadith hain or un par mukhtasar si behes hay ... mere khayal sey jisko arabic nahi ati wo ye kaam nahi kar sakta ... isi liye taqleed hi wajib hay ... ye to us wakat ho jab hamey Abu Hanifa Rehmatullah par etamad na ho

Salafi
02-04-2010, 07:35 PM
salafi bhai khud hi insaaf sey scohain kia aik ami rajeh or marjooh , nasikh or mansookh ka faisla kar sakta hay ???? or ap to ese keh rahey hain jese rafaya dain ki aik do hadith hain or un par mukhtasar si behes hay ... mere khayal sey jisko arabic nahi ati wo ye kaam nahi kar sakta ... isi liye taqleed hi wajib hay ... ye to us wakat ho jab hamey Abu Hanifa Rehmatullah par etamad na ho

Yeh baat tu Ibn 'Abbas k zahan mein bhi aani chahiye thi na. insaaf se aap bhi bataein. ici bunyaad par tu apne farmaya tha k:




حضرت ابن عباسؓ نے ان پر اس وجہ سے کوی تنقید نہیں کی اور نہ ہی حضرت نے فتویٰ دیتے وقت کوی دلیل دی ۔ نہ کوی قرآن کی آٰیت پیش کی نہ ہی کوی حدیث سنای ۔



acha yeh batain barailvi hanafi hain ya nahin ?

ملنگ
02-04-2010, 08:04 PM
1.Yeh baat tu Ibn 'Abbas k zahan mein bhi aani chahiye thi na. insaaf se aap bhi bataein. ici bunyaad par tu apne farmaya tha k:
2.acha yeh batain barailvi hanafi hain ya nahin ?

1) ibn 'abbas k Ahl-e-madinah ku unke usual mufti ya imam mujtahid k khilaaf masla batane,
2) Ahl-e-madinah ku apne muaqqif ki daleel batane,
3) phir uc ki tahqeeq aik sahibiyah se karne ku kehne
hazrat ibn e abbas RA nay baqool ap k ye teen batain samney rakhin .
lakin phir bhi wo loog taqleed e shaksi par arey rahey ... or asal point to ye hay k hazrat ibn e abbas RA nay un ko taqleed e shaksi karney par koi tanqeed nahi ki na hi ye kaha k may tumey daleel bhi bata raha hon or us ki tasdeeq ka bhi bata raha hon ... ham bhi ye hi kehtey hain....
asal point to is may ye hi hay k jab tak ap ko mujtahid par etabar ho to chahey us k masley k khilaf daleel bhi mil jaye apko chalna usi k masley par hay or dosra mujtahid bhi us par tanqeed nahi karta or hamey Fuqaha E Ahnaf par mukamal etabar hay ham un k dalail ko rajeh or un k masail ko nasikh samajhtey hain or follow kartey hain ..

baki dosri baat par mera nukta e nazar ye hi hay k brelvi GM hain ... or daleel us ki ye hay k jitni bidaat wagera wo kartey hain or jo batil aqeedey hain un k us may Fiqah hanafiya k mutabiq nahi chaltey
jese k fiqah hanafi ilm e ghaib or hazir nazir ko kufar kehtey hay jab k brelvi usko apna aqeeda banaye bethey hain
isi tarha un ki bidaat par sey bhi fiqah hanafi may koi saboot nahi to pata chala k wo fiqah hanafi ki taqleed nahi kartey bal k ghair muqalid tehrey

Salafi
02-04-2010, 08:24 PM
hazrat ibn e abbas RA nay baqool ap k ye teen batain samney rakhin .
lakin phir bhi wo loog taqleed e shaksi par arey rahey ... or asal point to ye hay k hazrat ibn e abbas RA nay un ko taqleed e shaksi karney par koi tanqeed nahi ki na hi ye kaha k may tumey daleel bhi bata raha hon or us ki tasdeeq ka bhi bata raha hon ... ham bhi ye hi kehtey hain....
asal point to is may ye hi hay k jab tak ap ko mujtahid par etabar ho to chahey us k masley k khilaf daleel bhi mil jaye apko chalna usi k masley par hay or dosra mujtahid bhi us par tanqeed nahi karta or hamey Fuqaha E Ahnaf par mukamal etabar hay ham un k dalail ko rajeh or un k masail ko nasikh samajhtey hain or follow kartey hain ..

Muhtaram bhai maine arz kia naa k agar muqallid ka dil na mane aur wuh yeh samjhe k uske usual mufti ki baat shariat k mutabiq hai tu ic mein koi harj nahin. ibn 'abbas se zyada Ahl-e-madinah zayd par i'timaad karte thay. unki baat baghair daleel ki tahqeeq kiye kaise mante.

acha yeh batain.1) Ahl-e-madinah ne ibn 'abbas ki daleel ki tahqeeq kion ki, 2) kia ibn 'abbas ki tarah koi dusra mujtahid ya uska muqallid ya uske madhhab par taleem hasil kia hua 'alim kise dusre imam k muqallid ku apne masle ki daleel bata kar usku convince kar sakta hai ?



baki dosri baat par mera nukta e nazar ye hi hay k brelvi GM hain ... or daleel us ki ye hay k jitni bidaat wagera wo kartey hain or jo batil aqeedey hain un k us may Fiqah hanafiya k mutabiq nahi chaltey
jese k fiqah hanafi ilm e ghaib or hazir nazir ko kufar kehtey hay jab k brelvi usko apna aqeeda banaye bethey hain
isi tarha un ki bidaat par sey bhi fiqah hanafi may koi saboot nahi to pata chala k wo fiqah hanafi ki taqleed nahi kartey bal k ghair muqalid tehrey





The third difference regarding which you have requested of me is that between the Deobandis and Barelwis, and
you wanted to know which of these two are treading the path of Haqq.


To me the phrase “Deobandi

-Barelwi difference” is surprising and odd. You have already heard that the difference

between the Sunnis and Shiahs stemmed from the acceptance (of the one group) and rejection (by the other) of the
Sahaabah-e-Kiraam (radhiAllaahu anhum) and that the difference between the Hanafis and Wahaabis originated
from the following or not of the Aimmah-e-Mujtahiddeen. However, according to my knowledge there is no sound
basis for any difference between the Deobandis and Barelwis. The reason being that both these groups are
passionate followers of the Hanafi Math-hab. In so far as Aqaa`id both these groups accept and follow the
teachings of Imaam Abul Hasan Ash`ari and Imaam Abu Mansoor Maaturidi (rahmatullahi alaihima). Both these
groups accept and take ba`it to all four Silsilahs of Tasawwuf, viz. Qaadiri, Chisti, Saharwardi and Naqshbandi.


In short, both these groups are in all respects followers of the Ahle Sunnah Wal Jamaat. They also acknowledge to and accept the reverence of the Sahaabah, Tabieen and Aimmah-e-Mujtahiddeen. They are Muqallids of Hadhrat Imaam Abu Hanifah (rahmatullahi alaih) and accept the authority right up to Mujaddid Alfe Thaani and Shah Abdul Azeez Muhaddith Dehlwi (rahmatullahi alaihima). They all also accept that being subservient to the Auliyaa of Allaah Ta`ala is the means of salvation in both the worlds. Therefore, in my opinion there is no real and genuine basis for any differences between theses two groups.





http://www.central-mosque.com/fiqh/diffumm.pdf


sorry laikin koi scan maujud nahin tha. aapne yaqinan yeh kitab daikhi hugi. yeh tabsirah deobandi tanazur mein 'ayn haqeeqat hai.

ملنگ
02-04-2010, 08:50 PM
Muhtaram bhai maine arz kia naa k agar muqallid ka dil na mane aur wuh yeh samjhe k uske usual mufti ki baat shariat k mutabiq hai tu ic mein koi harj nahin. ibn 'abbas se zyada Ahl-e-madinah zayd par i'timaad karte thay. unki baat baghair daleel ki tahqeeq kiye kaise mante.

acha yeh batain.1) Ahl-e-madinah ne ibn 'abbas ki daleel ki tahqeeq kion ki, 2) kia ibn 'abbas ki tarah koi dusra mujtahid ya uska muqallid ya uske madhhab par taleem hasil kia hua 'alim kise dusre imam k muqallid ku apne masle ki daleel bata kar usku convince kar sakta hai ?

1. ye to apko batana hay k ahle madina nay daleel ki tahqeeq ki ya nahi ... hazrat ibn e abbas nay un ko bataya k ye daleel hay or agar mere par etabar nahi to falan falan sey tasdeeq kar lo ab Ahle madina wahan gaye tasdeeq ki ya nahi ye malum nahi lakin daleel maloom ho janey k bawajood bhi unho nay masla sirf isi liye nahi mana k wo un k mujtahid k masley k khilaf tha or asal point ye hi hay .. is tarha to ham ahnaf bhi dalail ki tahqeeq kartey rehtey hain k falan masley may shawafey k dalail kia hain or hanabila k kia ...
2. bilkul esa ho sakta hay lakin ye kaam aik pukhta alim ka hay jis ko rajeh marjooh , nasikh o mansokh wagera ki puri pehchan ho
bal k fatawa shami k mutabiq esa howa bhi hay or ahnaf nay sirf daleel ki mazbooti ko dekhtey howe kuch masail may fatawa imam Zufar k qoul par dia hay or mafqudul khabar ki zouja k masley may bhi fatawa imam malik k qoul par hay is sey pata chala k ham loog sirf ankhain band kar k kisi k peechey nahi chal parey bal k mukammal tahqeeq kar k itminan kia hay ..







http://www.central-mosque.com/fiqh/diffumm.pdf


sorry laikin koi scan maujud nahin tha. aapne yaqinan yeh kitab daikhi hugi. yeh tabsirah deobandi tanazur mein 'ayn haqeeqat hai.


may ye to nahi kehta k mujey pata tha k ap ye hi post karain bal k kuch andaza zaroor tha
khair asal baat ye hay k kabi bhi mukamal tor par koi GM nahi hota is tarha or har har aik aik masail may hamara or ap logon ka bhi koi ikhtalaf nahi bal k aik GM ALim nay aik kitaab likhi hay jis may unho nay ahadith jama ki hain jin ko GM , brelvi , Deobandi sab mantey hain ... ikhtalaf sirf chand masail may hota hay Moulana Ludhyanvi Rehmatullah nay jo baat likhi hay wo bhi galat nahi k fiqah k masail ko wo mantey hain ham bhi mantey hain jese ham GM ko kehtey hain k ap sajdon wagera ki rafaya dain nahi kartey to ruku wagera bhi chor dain isi tarha brelviyon ko bhi kehtey hain k jese tum loog baki masial may fiqah hanafia ko mantey ho in may bhi maan lo ... baat sirf asoli or itni si hay k Nazariya jis ki bunyaad par wo galat aqeeday or bidaat banaye bethey hain wo Nazaria E Ghair Muqalidiyat hi hay agar ap is par thora sa ghour karain ... or may to taqleed ka matlab bhi etabar sey hi karta hon etabar or Mukammal Etamad, itminaan bas ye hi taqleed hay

Salafi
02-04-2010, 09:00 PM
1. ye to apko batana hay k ahle madina nay daleel ki tahqeeq ki ya nahi ... hazrat ibn e abbas nay un ko bataya k ye daleel hay or agar mere par etabar nahi to falan falan sey tasdeeq kar lo ab Ahle madina wahan gaye tasdeeq ki ya nahi ye malum nahi lakin daleel maloom ho janey k bawajood bhi unho nay masla sirf isi liye nahi mana k wo un k mujtahid k masley k khilaf tha or asal point ye hi hay .. is tarha to ham ahnaf bhi dalail ki tahqeeq kartey rehtey hain k falan masley may shawafey k dalail kia hain or hanabila k kia ...
2. bilkul esa ho sakta hay lakin ye kaam aik pukhta alim ka hay jis ko rajeh marjooh , nasikh o mansokh wagera ki puri pehchan ho
bal k fatawa shami k mutabiq esa howa bhi hay or ahnaf nay sirf daleel ki mazbooti ko dekhtey howe kuch masail may fatawa imam Zufar k qoul par dia hay or mafqudul khabar ki zouja k masley may bhi fatawa imam malik k qoul par hay is sey pata chala k ham loog sirf ankhain band kar k kisi k peechey nahi chal parey bal k mukammal tahqeeq kar k itminan kia hay ..



Shaykh taqi uthmani ki 'ibarat dubara mulaheza farmain:



Ahl-e-madinah ne madinah jaa kar Um-e-saleem se tahqeeq ki thi.

ab aap barah-e-karam mere sawaal ka jawaab dain: jin Ahlul madinah nay ibn 'abbas se masla poocha tha wuh pukhta 'ulama thay ?



may ye to nahi kehta k mujey pata tha k ap ye hi post karain bal k kuch andaza zaroor tha

:D



khair asal baat ye hay k kabi bhi mukamal tor par koi GM nahi hota is tarha or har har aik aik masail may hamara or ap logon ka bhi koi ikhtalaf nahi bal k aik GM ALim nay aik kitaab likhi hay jis may unho nay ahadith jama ki hain jin ko GM , brelvi , Deobandi sab mantey hain ... ikhtalaf sirf chand masail may hota hay Moulana Ludhyanvi Rehmatullah nay jo baat likhi hay wo bhi galat nahi k fiqah k masail ko wo mantey hain ham bhi mantey hain jese ham GM ko kehtey hain k ap sajdon wagera ki rafaya dain nahi kartey to ruku wagera bhi chor dain isi tarha brelviyon ko bhi kehtey hain k jese tum loog baki masial may fiqah hanafia ko mantey ho in may bhi maan lo ... baat sirf asoli or itni si hay k Nazariya jis ki bunyaad par wo galat aqeeday or bidaat banaye bethey hain wo Nazaria E Ghair Muqalidiyat hi hay agar ap is par thora sa ghour karain ... or may to taqleed ka matlab bhi etabar sey hi karta hon etabar or Mukammal Etamad, itminaan bas ye hi taqleed hay

Mere muhtaram bhai maulana tu unku imam Abu hanfiah raqhimahullah ka muqallid bata rahe hain. kya Ahl-e-hadeeth imam saheb k muqallid hain ? Aap kis ko kis se mila rahe hain ?

ملنگ
02-04-2010, 09:54 PM
سلفی بھای اہل مدینہ نے دلایل دیکھ کر خود کوی فیصلہ نہیں کیا ، بکلہ حضرت زیدؓ کی طرف مراجعت کی یہ بھی اسی صفحہ میں لکھا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی عامی کو رفع یدین کی احادیث وغیرہ دکھای جاءیں تب وہ واپس اپنے علماء کی طرف مراجعت کرے تو کوی حرج نہیں ، میں زاتی طور پر عامی کے خود سے کسی فیصلہ پر پہنچنے کے مخالف ہوں ۔

مفتی یوسف لدھیانویؒ کی بات سے مجھے اختلاف نہیں ہے کہ وہ امام ابو حنفیفہؒ کے مقلد نہیں لیکن جن مسایل میں انکا ہمارا اختلاف ہے ان میں تو غیر مقلد ہیں نا ۔۔۔ باقی آپ بے شک امام ابو حنیفہؒ کے مقلد نہیں لیکن ہمارا اور آپکا ہر ہر مسلہ میں تو اختلاف نہیں ہے نا ۔۔۔

Salafi
02-04-2010, 10:24 PM
Muhtaram bhai maine kushish ki hai k apni isteta'at k mutabiq aap k sawalat k jawab dun. yeh koi munazera nahin hai. koi ishtihaar nahinchapa aur vavaela nahin hu raha. muthbat guftugu mein dunon janib se tahammul aur tahzeeb k saath baat huni chahiye.

aap ku kis ne kaha k muraj'et mana' hai ? 100 baar muraj'et husakti hai. laikin agar Ahl-e-madinah ku faisle ka ikhtiyaar nahin tha tu ibn 'abbas ne unhain tahqeeq k liye kyun bula ? Agar Ahl-e-madinah ibn 'abbas ki baat maan bhi laite tu wuh unka apna faisla na huta balke aik mujtahid mutlaq ka faisla huta.

aur masail mein ikhtilaaf tu Sahibayn ka bhi hai Imam saheb se. laikin wuh tu muqallid-e-Abi haneefah hain. asal mein ikhtilaaf ki nu'eyyat se pata chalta hai k fulan fulan ka muqallid hai ya nahin.

Aap ku chahe ikhtilaaf na hu maulana shaheed se mujhe hai. khalis barailvi ku hanafi kehna hanafiyyah ki be 'izzati hai. tawheed nahin tu ahl-e-sunnat k aik fiqhi maddhab se tamssuk ka kya faida. sab bekar hai.
maine aap se yeh sawal ic liye poocha tha kyun k buhut se hanafi musalman aqeedah mein theek hute hain magar biddat (uloohiyat se muta'alliq nahin) mein barailvi hute hain. Du'a Allah se hi mangte hain magar angotha bhi chumte hain, milad bhi karte hain, halwa bhi banate hain etc. Brailviun se muta'assir baaz musalman hanafi ulama bhi biddat k murtakib hain. un k peechay awaam bhi chalay. ab un logon ku yahi bataya jaata hai k yeh fiqh hanafi hai. in masail ku hanafiyyah ki kutub mein check karna unke bas mein nahin. lihaza wuh talfeeq within one madhhab karte hain.

Cyber Mujahid
02-07-2010, 05:17 AM
Muhtaram barotheran janab Malang sab and janab Salafi sab Assalam o alaikum wa rahama tullah
mashallah ap dono ki post may ne man o aan prh lee,,mashallah dono bhaion ne achay dalayel aur khoobsorat andaz se apna apna mauqaf bayan kia hain,likin may sirf ik bat kahonga,
wo ye k,,,,Kuffar aur Mushriqeen k leye jaise,,,Christian,, yahoodi,,Ismaili, Aghakhani, Razakhani etc etc sab k leye chahe wo Ahle Hadith ho ya Ahle haq ho,,,sab ik hi hain aur agar koi bat aati hain tu wo sirf ye kehtay hain k Wahabi hain,,,wo sab log hum dono Jammatoon ko Wahabi hi kehtay hain,,,,mera zati experience hain k jab en may se kisi ko b koi haq bat bata do khaass toor pe Raza khanion Barlivion ko tu wo fat se bol dengay k es ki bat mat sono ye wahabi hain,,,,kehne ka maqsad hain k hum 2 jammat jab puri dunia k leye ik hi hain tu phir hum apas may en chooti choti baton may kion ulajh rahay hain,,,umeed hain k meri bat ap dono ko buri nahi lagi hogi..
masalam

Ahnaf Defender
02-07-2010, 05:36 AM
Asslam-o-Alaikum,

Anees bhai aisi baat nahi hai , hum poori dunia ka lia aik nahi hai. Brailvio ki to baat hi alag hai , unse ager koi Sikh bhi aker koi sawal kara to woh Sikh ko bhi "Wahabi" kah dai gai.

AUr hamara apas mai Ikhtilaaf Choota Choota , ya jis ko Ulema "Faraoi Masail" kahta hai mai nahi balka , kafi ikhtelaf Aqaid mai hai. is lia humma aik samjhna bohat bari galti aur jahalat hai.

ملنگ
02-07-2010, 07:17 PM
سلفی بھای میں نے بلکل بھی یہ نہیں کہا کہ مراجعت منع ہے ۔ بلکہ یہ ہی تو میں بتانا چاہ رہا ہوں کہ خود سے مجتہد بن کر چند احادیث کو دیکھ کر فیصلہ کرنے کی بجاے علماء کی طرف مراجعت کی جاے ۔ اور علماء کی طرف مراجعت اسی لیے کی جاے گی جب ان پر اعتماد ہو گا ۔ جب کہ آج کے دور کے اہل حدیث علماء پر اعتبار اور اعتماد کر کے انکی بات کو مان لینے کو شرک کہتے ہیں ۔
جہاں تک مولانا لدھیانویؒ کی تحریر کی بات ہے تو اس کے الفاظوں پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ مولانا صاحبؒ نے اپنا لہجہ حتی الوسع بہت نرم رکھنے کی کوشش کی ہے اسی لیے ان کی تحریر میں یہ الفاظ موجود ہیں ۔ لیکن میرا نقطہ نظر وہی ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ۔

Salafi
02-07-2010, 08:03 PM
سلفی بھای میں نے بلکل بھی یہ نہیں کہا کہ مراجعت منع ہے ۔ بلکہ یہ ہی تو میں بتانا چاہ رہا ہوں کہ خود سے مجتہد بن کر چند احادیث کو دیکھ کر فیصلہ کرنے کی بجاے علماء کی طرف مراجعت کی جاے ۔ اور علماء کی طرف مراجعت اسی لیے کی جاے گی جب ان پر اعتماد ہو گا ۔ جب کہ آج کے دور کے اہل حدیث علماء پر اعتبار اور اعتماد کر کے انکی بات کو مان لینے کو شرک کہتے ہیں ۔









جہاں تک مولانا لدھیانویؒ کی تحریر کی بات ہے تو اس کے الفاظوں پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ مولانا صاحبؒ نے اپنا لہجہ حتی الوسع بہت نرم رکھنے کی کوشش کی ہے اسی لیے ان کی تحریر میں یہ الفاظ موجود ہیں ۔ لیکن میرا نقطہ نظر وہی ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ۔


g mein jaanta hun aap yeh nahin keh rahe. Ahl-e-hadeeth bhi yeh nahin kehte. Laikin donun ki muraj'at k tareeqe mein faraq yeh hai k aap mura j'at k baad har soorat apne hanafi/maliki/hanbli mufti ki manne k qail hain jab k Ahl-e-hadeeth yeh nahin kehte..
Kitne ahl-e-hadeeth yeh kehte hain k har masle mein jahil ku Quran-o-hadith daikh kar ijtihaad karne ki zaroorat hai ? agar koi 'alim kisi aam aadmi ko koi masla batae ya aami kici ki kitab mein pardh le, ju uske usual mufti ke khilaaf hu, phir uc ki tahqeeq ka kya hukm huga ? kya uc ne khud se masla talash kia yaa phir kici k batae hue masle ki tahqeeq ki.
.Aap maulana k tarz-e-tahreer se ikhtilaaf kar sakte hain magar deobandi usool ko madd-e-nazar rakhte hue unhun ne insaaf k saath sahih baat likhi hai. mera maqsad yeh tha k hind-o-pak mein aik buhut bardi makhlooq ko hanafiyyat ya yun kahain k taqleed shakhsi biddati hune se nahin ruk saki. Aur in biddaat ki wajha wahi talfeeq hai ju mazmoom hai faraq yeh hai k loag aik hi madhhab mein rehte hue yeh sab kar rahe hai. .
Awaam mein ye isteta'at tu hai nahin ke wuh fiqh hanafi daikh kar faisla kare aur ooper se un ko yahi bataya jaata hai k taqleed shakhsi wajib hai aur fiqh ku janne k liye uc madhhab k ulama se ruju' karna zaroori hai. bus brailvi hanafi k board lagaya aur muft k mufti ban gai.</p>

Salafi
02-07-2010, 08:12 PM
Malang bhai yeh batain Kya hamain Ahmad, Thawri, Layth, Ishaq bin Rahaway waghaira par i'timaad aur i'tibaar nahin ? kya wuh mujtahid nahin thay ? Kya unke paas 'ilm nahin tha ?

Cyber Mujahid
02-08-2010, 08:49 AM
walaikum o salam brother
bari khushi howi k ap ne mere bat ko ahmiyat di aur waqt nikal k jawab dia...
may ap se etifaq karta hoon,,,likin mera eshara sirf aur sirf Shirq ki taraf thaa,,,,mere nakis elam k mutabiq Ahle Hadith k Aqeeday me shirq nahi hain,,,aur agar wo baz baton ya masayel may hum se ekhtilaf kartay hain tu us ki b waja yahi hain k mubada shirk na ho jaye baqi delon ka hall tu Allah subhana wa talah hi behtar janta hai,,
es forum ko join karne ka maqsad hi yahi thaa k kuch seekh sakhoon..inshallah
Allah hum sab ko sahi raste pe aur Deen Islam pe hamisha karband rakhay..Ameen
masalam
Anees

Salafi
02-08-2010, 12:22 PM
Muharam Anees bhai, wa'alaikum assalam

ikhtilaaf k ba wajood mukhalif ki izzat ki jasakti hai. aur izzat k bawajood haleef se kici masle par ikhtilaaf kiya jasakta hai.

Maslan Salahuddin Ayyubi ash'ari thay. Unse Ahlul hadeeth/hanabilah/salafiyyah ka aqaid mein ikhtilaaf hai. phir bhi wuh Islam ka aik hero hai. Hazaron balkai karodron Ahl-e-hadeeth sai kahin behtar. Shah Waliullah hanafi thay laikin Ahl-e-hadeeth unki buhut izzat karte hain. Imam Shafi'i Imam-e-Ahlul hadeeth kehlate hein phir bhi hind-o-pak k Ahl-e-hadeeth talaq k masle par unke mukhalif hain.

har cheez syaah aur sufaid nahin huti. munazireen ka yehi masla hai.

Salafi
02-16-2010, 09:23 AM
:bism:







Muhtaram Malang bhai in saheb ku tu aap achi tarah jaante hein.

app note karein aami k masla poochne ka bare mein lafzi niza' k ilawah koi baat nahin. taqleed ya ittiba'. lafzi jhagrda.

asal ikhtilaaf hai:

1) sirf aik madhhab k mufti se pooche ya kici se bhi;
2) kya daleel ko evaluate kar sakta hai ya nahin (yaad rahe zubair ali yeh nahin keh rahe k dalil ki marifat aami k liye lazim hai) ?

ملنگ
02-16-2010, 06:11 PM
Malang bhai yeh batain Kya hamain Ahmad, Thawri, Layth, Ishaq bin Rahaway waghaira par i'timaad aur i'tibaar nahin ? kya wuh mujtahid nahin thay ? Kya unke paas 'ilm nahin tha ?

ان حضرات کے بارے میں مجھے علم نہیں ۔ اسی لیے کچھ کہنے سے قاصر ہوں ۔


asal ikhtilaaf hai:

1) sirf aik madhhab k mufti se pooche ya kici se bhi;
2) kya daleel ko evaluate kar sakta hai ya nahin (yaad rahe zubair ali yeh nahin keh rahe k dalil ki marifat aami k liye lazim hai) ?

۔1۔پھر تو نفس پرستی بڑھ جاے گی جس عالم کا مسلہ نفس کے مطابق لگے گا انسان اسی کی بات کو مانے گا ۔۔۔ ہم تقلید شخصی کو واجب لغیرہ مانتے ہیں یعنی جب نفس پرستی کا دور ختم ہو جاے تو تقلید شخصی کا واجب ہونا بھی ختم جیسے خیر القرون میں تھا ۔ آج کل بھی زیادہ تر غیر مقلدین نفس پرست ہیں اسی لیے کہتے تو یہی ہیں کہ وتر چاہے 5 پڑھ لو چاہے 7 پڑھ لو چاہے 1 یا 3 پڑھ لو لیکن میں نے آج تک کوی ایک غیر مقلد نہیں دیکھا جس نے ایک سے زیادہ پڑھا ہو ۔ اور رمضاں میں جب تراویح کے بعد امام وتر پڑھاتا ہے تو جو بچے کھچے غیر مقلد ہوتے ہیں وہ بھی الگ جا کر ایک ہی پڑھتے ہیں
پھر تراویح کے بارے میں بھی یہ ہی شور کہ جتنی مرضی پڑھ لو نفل نماز ہے لیکن نہ صرف خود 8 پڑھیں گے بلکہ 8 کے اوپر مناظرے بھی کریں گے ، کتابیں بھی لکھیں گے اور پتا نہیں کیا کیا کریں گے ۔۔
پھر جب بیوی کو طلاق دینے کی باری آی تو بیوی ہاتھ سے جاتی نظر آی تو شور مچا دیا کہ طلاق 3 نہیں 1 ہی ہوتی ہے ۔۔۔
اب اس سے زیادہ کیا دلیل ہو گی غیر مقلد کے نفس پرست ہونے کی ۔۔۔ اسی لیے خاص طور پر آج کے دور میں تقلیدِ شخصی کو واجب ہی کہا جاے گا ۔

۔2۔ جس کو اردو صحیح طرح پڑھنی نہیں آتی وہ دلیل کی جان پرکھ کیا کرے گا ؟؟؟؟ صرف قرآن کی تفسیر کرنے کے لیے تو علما نے 15 علوم زکر کیے ہیں جن میں آدھے سے زیادہ عربی زبان کے علوم ہیں ۔۔۔ اور جب دلایل سے مسایل کا استنباط کرنے کی باری آے گی پھر تو اور بھی علوم کی ضرورت ہو گی مرغیاں بیچنے والا اور موچی کیا کرے گا ایسے میں ؟؟؟ پاکستان کی 70 فیصد آباری دیہاتوں میں رہتی ہے تو آپ ان سے کیسے ایکسپیکٹ کرتے ہیں کہ وہ دلایل کو ایویلیویٹ کریں ۔ جو شہری ہیں انکو تو رکوع اور سجود صحیح طرح سے کرنے نہیں آتے وہ کیا دلایل کو ایولیویٹ کریں گے ۔۔۔۔
اور جہاں تک عربوں کی باری آی تو میں مسجد میں فجر کے بعد ایک گروپ میں بیٹھ کر قرآن پڑھتا تھا جس میں کافی عرب تھے بیچارے قرآن اٹک اٹک کر پڑھ رہے تھے حلانکہ عربی انکی مادری زبان ہے ۔۔۔ مجھے تو یہ ضد بہت بے معنی لگتی ہے کہ عامی دلایل کی جان پرکھ کرے ۔۔۔
زیادہ دور نہیں جاتا اپنی بات کرتا ہوں کسی عربی کتاب میں کوی عربی عبارت ڈھونڈنی پڑ جاے تو میں رونے لگ جاتا ہوں ، کسی عربی عبارت کا ترجمہ کروانا ہو تو دو دن تک کسی کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں کہ کوی ترجمہ کر دے ۔۔۔ گوگل ٹرانسلیٹر کچھ مدد نہیں کرتا

Salafi
02-16-2010, 06:44 PM
ان حضرات کے بارے میں مجھے علم نہیں ۔ اسی لیے کچھ کہنے سے قاصر ہوں ۔




aap pooch lein. Ahmad aimma-e-arba'a mein se hein.




۔1۔پھر تو نفس پرستی بڑھ جاے گی جس عالم کا مسلہ نفس کے مطابق لگے گا انسان اسی کی بات کو مانے گا ۔۔۔ ہم تقلید شخصی کو واجب لغیرہ مانتے ہیں یعنی جب نفس پرستی کا دور ختم ہو جاے تو تقلید شخصی کا واجب ہونا بھی ختم جیسے خیر القرون میں تھا ۔ آج کل بھی زیادہ تر غیر مقلدین نفس پرست ہیں اسی لیے کہتے تو یہی ہیں کہ وتر چاہے 5 پڑھ لو چاہے 7 پڑھ لو چاہے 1 یا 3 پڑھ لو لیکن میں نے آج تک کوی ایک غیر مقلد نہیں دیکھا جس نے ایک سے زیادہ پڑھا ہو ۔ اور رمضاں میں جب تراویح کے بعد امام وتر پڑھاتا ہے تو جو بچے کھچے غیر مقلد ہوتے ہیں وہ بھی الگ جا کر ایک ہی پڑھتے ہیں
پھر تراویح کے بارے میں بھی یہ ہی شور کہ جتنی مرضی پڑھ لو نفل نماز ہے لیکن نہ صرف خود 8 پڑھیں گے بلکہ 8 کے اوپر مناظرے بھی کریں گے ، کتابیں بھی لکھیں گے اور پتا نہیں کیا کیا کریں گے ۔۔
پھر جب بیوی کو طلاق دینے کی باری آی تو بیوی ہاتھ سے جاتی نظر آی تو شور مچا دیا کہ طلاق 3 نہیں 1 ہی ہوتی ہے ۔۔۔
اب اس سے زیادہ کیا دلیل ہو گی غیر مقلد کے نفس پرست ہونے کی ۔۔۔ اسی لیے خاص طور پر آج کے دور میں تقلیدِ شخصی کو واجب ہی کہا جاے گا ۔


Muhtaram bhai Ahl-e-hadeeth k ba'z masail ku apne misaal banaya hai. mein bhi misaal deta hun. jab larki bhaag kar shadi karti hai tu kis k paas jaa kar fatwa liya jaata hai. meine khud taqi uthmani se suna hai rasoolulallah saw du sajdon k darmyan aik sajde k baraber rukte aur tasbeehat pardhte laikin aaj tak maine aik deobandi itna lamba jalsa pardhte nahin dekha. Taqi uthmani ku bhi nahin. aik dusre par keechard uchalna buhut aasan hai yaar.

meine pehle ju brailvi hanafi maturidi qadri ki misaal di aap uc se khush nahin. halanke aik mu'taber deobandi 'aalim ka irshaad bhi meine naqal kiya. maqsad yeh tha k hanafi rehte hue bhi loag apne nafs ki pairwi karte hein.

jab se ba'z ulama ne taqleed shakhsi k wujub ka hukm lagaya tab se ic ki mukhalefat ulama hi ki taraf se ki jaati rahi hai.

kya aik mutabahhir 'alim ju k apne imam k mukhalif masla ikhtyaar kar sakta hai wuh nafs ki pairwi nahin karsakta ?






۔2۔ جس کو اردو صحیح طرح پڑھنی نہیں آتی وہ دلیل کی جان پرکھ کیا کرے گا ؟؟؟؟ صرف قرآن کی تفسیر کرنے کے لیے تو علما نے 15 علوم زکر کیے ہیں جن میں آدھے سے زیادہ عربی زبان کے علوم ہیں ۔۔۔ اور جب دلایل سے مسایل کا استنباط کرنے کی باری آے گی پھر تو اور بھی علوم کی ضرورت ہو گی مرغیاں بیچنے والا اور موچی کیا کرے گا ایسے میں ؟؟؟ پاکستان کی 70 فیصد آباری دیہاتوں میں رہتی ہے تو آپ ان سے کیسے ایکسپیکٹ کرتے ہیں کہ وہ دلایل کو ایویلیویٹ کریں ۔ جو شہری ہیں انکو تو رکوع اور سجود صحیح طرح سے کرنے نہیں آتے وہ کیا دلایل کو ایولیویٹ کریں گے ۔۔۔۔



baat yeh hai k aami tu ulama k aqwal mein se hi apni samajh k mutabiq behtar ku lainge.

acha pakistan ki daihi aabadi mein se brailvi kya karein ?

baniazkhan
02-17-2010, 06:25 AM
rushed bhai, aap ni jo kuch bhi post kia hai us k bad ye sawal peda hota hai k hum log kaha jaien, har fiqay wale apny apny ulma karam hi ki taqleed karty hen, or aap ne IMMAMO k hawaly se jo batein likhi hen un main bhi daleel nahi hai balky unki ya un k ulmao ki tahqeeq ya rai hai. agar hum Huzur Pak (P.B.U.H) k tareeqay per amal karny ko ETA'AT kehty hein tou bhi har fiqay k yahi dawa hai k wo un ki sunnat per sahi tarikay se amal kar raha hai.
kuch samj main nahi ata "Kuch samj main ni ata"

ملنگ
02-17-2010, 09:17 PM
جناب ہمیں امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر مجتہدینؒ پر اعتماد ہے لیکن ہم امام ابو حنیفہؒ کے دلایل کو انسے مقدم رکھتے ہیں ۔

جب لڑکی بھاگ کر شادی کرتی ہے تو فتویٰ لینے کی ضرورت کس بات کی ہے اس میں ؟؟؟ احناف کے نزدیک بالغ لڑکی کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی اجازت ہے اگر وہ غیرِ کفو میں کرے تو باپ کو نکاح فسخ کرنے کی اجازت ہے وگرنہ اگر وہ ہم کفو میں کرے تو اسکا نکاح فسخ نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لیے کسی فتوے کی ضرورت نہیں اور یہ کوی قرآن اور حدیث کے خلاف بھی نہیں ہے اگر ہے تو آپ دلیل پیش کریں ۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو اسکہ مطلب یہ ہی ہے کہ ہر شخص کے ساتھ مکمل انصاف کیا جاے ۔ اگر بالغہ لڑکی کو بغیر ولی نکاح کی اجازت نہ دی جاے تو پھر "بڈھے سے 15 سالہ لڑکی کا نکاح "، سندھ میں عورت کا قرآن سے نکاح وغیرہ وغیرہ عام ہوں گی ۔ اسی لیے احناف کے اس مسلہ میں کوی خرابی نہیں ہے ۔
آپ نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے کہا ہے کہ سجدوں کے درمیان سجدے جتنا وقفہ اور دعاءیں پڑھنا حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جناب ہر وہ عمل جو حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو وہ فرض یا واجب نہیں بن جاتا ۔ کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ سجدوں کے درمیان دعاءیں پڑھنا فرض یا واجب ہے ہم اس مسلہ کو پھر اسی لیول پر ڈِسکس کرتے ہیں جس پر ہم مسلہ طلاق وغیرہ ڈِسکس کرتے ہیں ۔

آپ نے جو مثال دی میں اسکا جواب آپکو پہلے ہی دے چکا ہوں آپ نے تقلیدِ شخصی کا جواب یہ دیا کہ تقلید شخصی کرتے ہوے بھی لوگ نفس کی پیروی کرتے ہیں تو اسکا جواب یہ ہی ہے کہ وہ مذہب کے مخالف کر رہے ہیں اور گناہ گار ہو رہے ہیں ۔ لیکن یہ ہی کام غیر مقلدین مذہب کے نام پر کرتے ہیں اسکی مثالیں میں آپکو اوپر دے چکا ہوں جو مسلہ انکو نفس کے خلاف لگتا ہے اس میں کوی نہ کوی آسانی نکال لیتے ہیں چاہے اجماع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ جرابوں پر مسح ، 8 تراویح اسکی واضح مثالیں ہیں ۔
تقلیدِ شخصی کی مخالفت علماء کی طرف سے کی جاتی ہے اس میں کنڈیشن رکھی ہوی ہیں وہ مخالفت وہ نہیں جو غیر مقلدین کی طرف سے ہے نہ ہی وہ علماء تقلیدِ شخصی پر کفر شرک کا فتویٰ لگاتے ہیں ۔

جو معتبر عالم اپنے امام کے قول کے مخالف مسلہ اختیار کرتا ہے یہ مسلہ پر ڈپینڈ کرتا ہے کہ کس مسلہ کے بارے میں ہے ۔ اصل میں احناف جو تقلیدِ شخصی کرتے ہیں یہ فردِ واحد سے زیادہ نوعی قسم کی ہے یعنی ہم ایک خاص نوع کی تقلید کرتے ہیں جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ فتاویٰ شامی کے مطابق صرف دلیل دوسری طرف مضبوط ہونے کی وجہ سے احناف نے 17 جگہوں پر فتویٰ امام ابو حنیفہؒ کے قول کو چھوڑ کر دیگر مجتہدین و فقہا کے قول پر دیا ہے ۔

پاکستان کی دیہی آبادی کا بریلوی اگر ضد چھوڑ دے تو مسلہ حل ہو جاے گا ۔

اور بانیاز خان بھای آپ اپنے بے تقے اور یکطرفہ کمنٹس دے کر پوسٹس کا ضیاع نہ کریں لگتا ہے آپ نے رشد صاحب کا مضمون پڑھنے کے علاوہ کوی اور پوسٹ نہیں پڑھی حالانکہ سلفی بھای اپنی پوسٹ میں بتا چکے ہیں کہ اطاعت اور تقلید میں کوی فرق نہیں صرف لفظ مختلف ہیں لیکن معنی ایک ہی ہیں
۔

Salafi
02-19-2010, 02:16 PM
جناب ہمیں امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر مجتہدینؒ پر اعتماد ہے لیکن ہم امام ابو حنیفہؒ کے دلایل کو انسے مقدم رکھتے ہیں ۔



aaami k Imam Abu Haneefah rahimahullah k dalail ku deegar mujtahideen k dalail par muqaddam rakhne ki wajha ? wuh ic qabil kaise hua ?





جب لڑکی بھاگ کر شادی کرتی ہے تو فتویٰ لینے کی ضرورت کس بات کی ہے اس میں ؟؟؟ احناف کے نزدیک بالغ لڑکی کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی اجازت ہے اگر وہ غیرِ کفو میں کرے تو باپ کو نکاح فسخ کرنے کی اجازت ہے وگرنہ اگر وہ ہم کفو میں کرے تو اسکا نکاح فسخ نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لیے کسی فتوے کی ضرورت نہیں اور یہ کوی قرآن اور حدیث کے خلاف بھی نہیں ہے اگر ہے تو آپ دلیل پیش کریں ۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو اسکہ مطلب یہ ہی ہے کہ ہر شخص کے ساتھ مکمل انصاف کیا جاے ۔ اگر بالغہ لڑکی کو بغیر ولی نکاح کی اجازت نہ دی جاے تو پھر "بڈھے سے 15 سالہ لڑکی کا نکاح "، سندھ میں عورت کا قرآن سے نکاح وغیرہ وغیرہ عام ہوں گی ۔ اسی لیے احناف کے اس مسلہ میں کوی خرابی نہیں ہے ۔



yaad rakhain k yahan ahnaaf k masla ki muzammat maqsood nahin hai. ic thread k mauzu k mutabiq sirf itna kehna kaafi hai k ic masla mein mujtahideen ka abu haneefah se ikhtilaaf mashhoor hai. loag hanafiyyah k peechay ic masla mein panah laite hein. aapne Ahl-e-hadeeth par nafs ki pairvi ka ju ietiraz kiya tha meine uska jawab diya hai.

Quran se shadi haram hai. yeh koi ikhtilafi masla nahin hai. Lardki zabardasti ya buhut kam umri k nikah ku khatam karana chahe tu karasakti hai yeh hadeeth se thabit hai. ic bina par wali ki ijaazat k baghair lardki k nikah ku 'umomi hukm banane ki zaroorat nahin hai. Nahi ahnaaf ne apne masle k bunyad in mu’aashrati buraiyun par rakhi hai.





آپ نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے کہا ہے کہ سجدوں کے درمیان سجدے جتنا وقفہ اور دعاءیں پڑھنا حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جناب ہر وہ عمل جو حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو وہ فرض یا واجب نہیں بن جاتا ۔ کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ سجدوں کے درمیان دعاءیں پڑھنا فرض یا واجب ہے ہم اس مسلہ کو پھر اسی لیول پر ڈِسکس کرتے ہیں جس پر ہم مسلہ طلاق وغیرہ ڈِسکس کرتے ہیں ۔




yeh tu aap ku Ahl-e-hadeeth par 8 rkaat se zaa'id taraweeh ku nafil samajhne aur iske bawajood zaa'id namaz na pardhne par bhi soochna chahiye na. 8 sunnat par behas huti hai zaa'id nawafil par nahin. phir nafsani khuwahishaat ki pairvi ka ilzaam kyun ?

wasie meri ittila’ k mutabiq hanabilah jalse mein rabbigh firli parhne ku namaz k wajibaat mein se laite hain.





آپ نے جو مثال دی میں اسکا جواب آپکو پہلے ہی دے چکا ہوں آپ نے تقلیدِ شخصی کا جواب یہ دیا کہ تقلید شخصی کرتے ہوے بھی لوگ نفس کی پیروی کرتے ہیں تو اسکا جواب یہ ہی ہے کہ وہ مذہب کے مخالف کر رہے ہیں اور گناہ گار ہو رہے ہیں ۔ لیکن یہ ہی کام غیر مقلدین مذہب کے نام پر کرتے ہیں اسکی مثالیں میں آپکو اوپر دے چکا ہوں جو مسلہ انکو نفس کے خلاف لگتا ہے اس میں کوی نہ کوی آسانی نکال لیتے ہیں چاہے اجماع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ جرابوں پر مسح ، 8 تراویح اسکی واضح مثالیں ہیں ۔



Aap ne kya jawab diya bhai. K maulana yusuf ludhyanvi ne narm lehja ikhtiyaar kiya halanke wuh keh rahe hain k brailvi hanafi maturidi aur sufi hein lehaza unka deobandion se ikhtilaaf odd aur lagta hai.

Mera sawaal tha k awwal tu aik aami ne aap k khayal k mutabiq apna kaam pura karliya. Aik imam k muqallid aalim se masla poochta hai chahe wuh brailvi hu ya deobandi. Doem yeh k Uc ne zid chord bhi di phir bhi uc ko kaise pata chale k kaunsa hanafi maturidi sufi haq par hai. Brailvi ya deobandi. Uc ko kaise pata chale hanafi madhhab k mutabiq amal kaun kar raha hai.

Meri aik guzarish hai malang bhai aap mufti rafi’ sahib ki ijma’ par kitab pardhein. Phir ijma’ par mazeed mawaad pardhain. Ic k lawazemat ku ma’loom karein. Aur in masail par ikhtilaaf ki tahqeeq karein.






تقلیدِ شخصی کی مخالفت علماء کی طرف سے کی جاتی ہے اس میں کنڈیشن رکھی ہوی ہیں وہ مخالفت وہ نہیں جو غیر مقلدین کی طرف سے ہے نہ ہی وہ علماء تقلیدِ شخصی پر کفر شرک کا فتویٰ لگاتے ہیں ۔



Aap un sharait ku post karein. Aur wuh ahl-e-hadeeth se kis tarah mukhtalif hain ?






جو معتبر عالم اپنے امام کے قول کے مخالف مسلہ اختیار کرتا ہے یہ مسلہ پر ڈپینڈ کرتا ہے کہ کس مسلہ کے بارے میں ہے ۔ اصل میں احناف جو تقلیدِ شخصی کرتے ہیں یہ فردِ واحد سے زیادہ نوعی قسم کی ہے یعنی ہم ایک خاص نوع کی تقلید کرتے ہیں جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ فتاویٰ شامی کے مطابق صرف دلیل دوسری طرف مضبوط ہونے کی وجہ سے احناف نے 17 جگہوں پر فتویٰ امام ابو حنیفہؒ کے قول کو چھوڑ کر دیگر مجتہدین و فقہا کے قول پر دیا ہے ۔



:D
Aap mera sawaal phir pardhein.

” kya aik mutabahhir 'alim ju k apne imam k mukhalif masla ikhtyaar kar sakta hai wuh nafs ki pairwi nahin karsakta ? “ ab jawab dein.

ملنگ
03-03-2010, 09:37 PM
[QUOTE=Salafi;60114]aaami k Imam Abu Haneefah rahimahullah k dalail ku deegar mujtahideen k dalail par muqaddam rakhne ki wajha ? wuh ic qabil kaise hua ?

بہت سی وجوہات ہیں مثال کے طور پر یہ کہ انکی فقہ شورای ہے ۔ اصل میں ہماری تقلید شخصی سے مراد فردِ واحد نہیں بلکہ شخصی سے مراد نوعی ہے ۔ اسکی مثال پہلے بھی دی تھی کہ فقہ کے کیء مسایل ایسے ہیں جہاں ہم نے دلیل کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کے قول کو چھوڑ کر دوسروں کے قول پر عمل کیا ہے جیسا کہ شامی میں 17 مسایل کا زکر ہے ۔


yaad rakhain k yahan ahnaaf k masla ki muzammat maqsood nahin hai. ic thread k mauzu k mutabiq sirf itna kehna kaafi hai k ic masla mein mujtahideen ka abu haneefah se ikhtilaaf mashhoor hai. loag hanafiyyah k peechay ic masla mein panah laite hein. aapne Ahl-e-hadeeth par nafs ki pairvi ka ju ietiraz kiya tha meine uska jawab diya hai.

لیکن یہ کسی بھی طرح سے اسکا جواب نہیں بنتا ۔۔ انہوں نے دین کو اپنی نفس پرستی کے لیے استعمال کیا ہے ۔ دین میں فتنہ پھیلانے کے لیے ۔ یہ انکے رویے سے ہی ظاہر ہے ۔

Quran se shadi haram hai. yeh koi ikhtilafi masla nahin hai. Lardki zabardasti ya buhut kam umri k nikah ku khatam karana chahe tu karasakti hai yeh hadeeth se thabit hai. ic bina par wali ki ijaazat k baghair lardki k nikah ku 'umomi hukm banane ki zaroorat nahin hai. Nahi ahnaaf ne apne masle k bunyad in mu’aashrati buraiyun par rakhi hai.

پھر آپ ایسے کیسیز کا کیا کریں گے جہاں لڑکی بالغ بھی نکاح بھی کرنا چاہتی ہے گھر والے کرنے نہیں دیتے ؟؟؟ کیا ایسا کچھ قرآن حدیث میں ہے ؟؟ اسکے علاوہ خیر القرون کے بہت سے واقعاتی شواہد موجود ہیں جہاں لڑکی نے بغیر ولی کے نکاح کیا ۔


yeh tu aap ku Ahl-e-hadeeth par 8 rkaat se zaa'id taraweeh ku nafil samajhne aur iske bawajood zaa'id namaz na pardhne par bhi soochna chahiye na. 8 sunnat par behas huti hai zaa'id nawafil par nahin. phir nafsani khuwahishaat ki pairvi ka ilzaam kyun ?

سنت اور نفل میں فرق ہے ۔ انکے نزدیک 8 بھی نفل ہے ۔ کم سے کم جن سے میری بات ہوی انہوں نے یہی کہا۔
wasie meri ittila’ k mutabiq hanabilah jalse mein rabbigh firli parhne ku namaz k wajibaat mein se laite hain.


آپ مجھے حوالہ پیش کریں میں چیک کروا لوں گا

Aap ne kya jawab diya bhai. K maulana yusuf ludhyanvi ne narm lehja ikhtiyaar kiya halanke wuh keh rahe hain k brailvi hanafi maturidi aur sufi hein lehaza unka deobandion se ikhtilaaf odd aur lagta hai.

کیا آپ کو کتاب پڑھنے سے اندازہ نہیں ہوا کہ انکا لہجہ بہت نرم ہے ان اختلافات میں ۔ وہ تو غیر مقلدین کو بھی کہتے ہیں کہ اگر انکو امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق پر اعتماد نہیں تو کوی بات نہیں ۔۔ اگر آپ مولانا لدھیانوی کی تحریرات قادیانیوں کے رد میں دیکھیں اور پھر اسکے بعد یہ پڑھیں تو آپکو اندازہ ہو گا ۔
Mera sawaal tha k awwal tu aik aami ne aap k khayal k mutabiq apna kaam pura karliya. Aik imam k muqallid aalim se masla poochta hai chahe wuh brailvi hu ya deobandi. Doem yeh k Uc ne zid chord bhi di phir bhi uc ko kaise pata chale k kaunsa hanafi maturidi sufi haq par hai. Brailvi ya deobandi. Uc ko kaise pata chale hanafi madhhab k mutabiq amal kaun kar raha hai.

بس اسکو پھر فقہ حنفیہ کی کتابوں سے ایک ہی عبارت کافی ہو گی جس میں لکھا ہے کہ حضور اکرم کو عالم الغیب سمجھنے والا کافر ہو جاتا ہے ۔
Meri aik guzarish hai malang bhai aap mufti rafi’ sahib ki ijma’ par kitab pardhein. Phir ijma’ par mazeed mawaad pardhain. Ic k lawazemat ku ma’loom karein. Aur in masail par ikhtilaaf ki tahqeeq karein.


کتاب ملی تو انشاللہ ضرور پڑھوں گا ۔

Aap un sharait ku post karein. Aur wuh ahl-e-hadeeth se kis tarah mukhtalif hain ?

ایک

:D
Aap mera sawaal phir pardhein.

” kya aik mutabahhir 'alim ju k apne imam k mukhalif masla ikhtyaar kar sakta hai wuh nafs ki pairwi nahin karsakta ? “ ab jawab dein.


یہ امکان تو ہر جگہ موجود ہے

Salafi
03-05-2010, 10:26 AM
بہت سی وجوہات ہیں مثال کے طور پر یہ کہ انکی فقہ شورای ہے ۔ اصل میں ہماری تقلید شخصی سے مراد فردِ واحد نہیں بلکہ شخصی سے مراد نوعی ہے ۔ اسکی مثال پہلے بھی دی تھی کہ فقہ کے کیء مسایل ایسے ہیں جہاں ہم نے دلیل کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کے قول کو چھوڑ کر دوسروں کے قول پر عمل کیا ہے جیسا کہ شامی میں 17 مسایل کا زکر ہے ۔


buhut si wujuhaat mein se jin du ka aap ne zikr kiya hai un mein se pahli kay baray mein guzarish hai k kya Imam Abu haneefah akaylay k shagird thay, baqi mujtahideen k shagird bhi tu unse bahes wa tamhees karte thay. Aami ku kaise pata chaley k Imam Muzni (ju Shaf'i k shagird thay) wuh Imam Muhammad se kam 'ilm walay thay ya phir Imam Shaf'i un se koi mashwara nahin karte thay ? aur dusri wajha k hanabilah mein doosre aaimmah k masail laina hanafiyyah se kahin zyada aam hai. phir hanbali ya shaf'i kyun nahin hute. yeh tu koi mi'yaar na hua.

aur agar yeh hi standard sahih aur faisla kun hai tu phir kisi ku hanafi madhhab k ilwah koi madhhab qubool hi nahin karna chahiye.




لیکن یہ کسی بھی طرح سے اسکا جواب نہیں بنتا ۔۔ انہوں نے دین کو اپنی نفس پرستی کے لیے استعمال کیا ہے ۔ دین میں فتنہ پھیلانے کے لیے ۔ یہ انکے رویے سے ہی ظاہر ہے ۔


Mein phir try karta hun. Aap ne aik ahl-e-hadeeth masle (3 talaq) ku bunyaad bana kar farmaya k ahl-e-hadeeth asaan masle ku apni khuwahishaat k liye apna te hain. mein ne bhi aik masla (wali ki ijazat k baghair larki ki shadi) paish kiya .

Jahan tak nafs parasti aur fitnah phailane k liye ic rawayye ku apna na hai wuh tu ba'az deobandi bhi apnate hain. maslan mufti taqi k malyati masail ku deegar deobandi ulama ki mukhalifat k bawajood baaz deobandi 'aamion ka laina.




پھر آپ ایسے کیسیز کا کیا کریں گے جہاں لڑکی بالغ بھی نکاح بھی کرنا چاہتی ہے گھر والے کرنے نہیں دیتے ؟؟؟ کیا ایسا کچھ قرآن حدیث میں ہے ؟؟



Yahan agar koi ayat ya hadeeth nahin tu phir qazi ijtihaad kare gaa. laikin tafaqquh fid deen ka taqaza kya hai ? k aik khaas masle ku bunyaad bana kar 'umimi hukm lagaya jay ?




اسکے علاوہ خیر القرون کے بہت سے واقعاتی شواہد موجود ہیں جہاں لڑکی نے بغیر ولی کے نکاح کیا ۔



Agar ici masle se muta'alliq thread huta tu aap se mazeed poochta magar hum mauzu se hut jainge.

'Aini hanafi rahimahullah 'Umdatul qari sharh sahih al bukhari mein farmate hain:


وفيه اختلاف فذهب طاؤس ومحمد بن اسحاق والحجاج بن ارطاة والنخعى وابن مقاتل والظاهرية الى ان الرجل اذا طلق امراته ثلاثا معا فقد وقعت عليها واحدة

ya'ni: ic masle mein ikhtilaaf hai, Tawoos aur muhammad bin ishaq aur hajjaj bin ertat aur (ibrahim) al nakhai aur ibn muqatil aur zahiriyyah ic taraf gay hain k jab aadmi ap;ni bv ku aik saath teen talaq de tu wuh aik hi shumar hungi.

yeh kaun loag hain ? kis daur k hain ?




سنت اور نفل میں فرق ہے ۔ انکے نزدیک 8 بھی نفل ہے ۔ کم سے کم
جن سے میری بات ہوی انہوں نے یہی کہا۔












آپ مجھے حوالہ پیش کریں میں چیک کروا لوں گا

yeh Mar'i b. Yusuf al karmi al hanbali ki Dalilut Talib se hai:


وواجباتها ثمانية: تبطل الصلاة بتركها عمدا وتسقط سهوا وجهلا: التكبير لغير الإحرام1 لكن تكبيرة


المسبوق التي بعد تكبيرة الإحرام سنة وقول: سمع الله لمن حمده للإمام والمنفرد لا للمأموم وقول


ربنا و لك الحمد للكل وقول: سبحان ربي العظيم مرة في الركوع وسبحان ربى الأعلى مرة في السجود


وربى اغفر لي بين السجدتين والتشهد الأول على غير من قام إمامه سهوا والجلوس له.

hanabilah k nazdeek 8 mein se aik wajib sajdon k darmiyaan rabbighfirlee prdhna bhi hai.




کیا آپ کو کتاب پڑھنے سے اندازہ نہیں ہوا کہ انکا لہجہ بہت نرم ہے ان
اختلافات میں ۔ وہ تو غیر مقلدین کو بھی کہتے ہیں کہ اگر انکو امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق پر اعتماد نہیں تو کوی بات نہیں ۔۔ اگر آپ مولانا لدھیا
نوی کی تحریرات قادیانیوں کے رد میں دیکھیں اور پھر اسکے بعد یہ پڑھیں تو آپکو اندازہ ہو گا ۔


Meine yusuf ludhyanvi ki kitab shia sunni ikhtilaaf bhi pardhi hai. sanjjedah andaz mein likhne wale isi tarah likhte hain. unhun ne bilkul narmi nahin dikhai balke insaaf se kaam laite hue deobandi fikr aur usuloon k mutabiq kaha hai dunun groups ahle sunnat k usool par muttaqfiq hain.

jahan tak kici mujtahid par 'itimaad ka ta'alluq hai wuh tu 'aam baat hai. agar hanabali Abu haneefah ki tahqeeq par 'itimaad karain tu unhin k masail lain. yeh tu 'itimaad ki ta'beer par munhasir hai.





بس اسکو پھر فقہ حنفیہ کی کتابوں سے ایک ہی عبارت کافی ہو گی جس میں لکھا ہے کہ حضور اکرم کو عالم الغیب سمجھنے والا کافر ہو جاتا ہے ۔


http://darulifta-deoband.org/viewfatwa.jsp?ID=280


Question: Here (in Kashmir) almost 60% of all Masjids are of Baralvi type and they openly ask help from others (besides Allah) in dua and many more things. My concern is that if Namazz behind them is not valid, what should we do then, have we to say Namaaz alone? While we know Jammat is must for all Males. Kindly suggest me what should we do?

Answer: (Fatwa: 158=160/L)

How do they openly seek help from others beside Allah, what are their exact words? Our elders do not regard them as kafir, but they only say that the salah behind them is Makrooh-e-Tahreemi (highly undesirable). The safer way for you is to pray in a mosque not having such people as imam.

Allah (Subhana Wa Ta'ala) Knows Best.


Nahi Ahmad raza khan aur uske chailun ki kutub kici se chupi hoi hain aur nahi hanafi fiqh ki. phir darul 'uloom k muftiyaan k liye barailviyun ku kaafir kehna kyun mushkil hai ? aur 'aami tu unko hi hanafi samjhta hai.




کتاب ملی تو انشاللہ ضرور پڑھوں گا ۔


http://rahesunnat.wordpress.com/2008/11/06/fiqh-me-ijma-ka-maqam-%D9%81%D9%82%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%AC%D9%85%D8%A7%D8%B9-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85/




ایک


Ghalban aap ki 'ibaarat type hune sai reh gai ?





یہ امکان تو ہر جگہ موجود ہے


Jab yeh imkaan maujood hai aur mutabahhir 'aalim ku ijtihaad ka haq nahin aur har mujtahid ka ijtihaad theek hai. phir usko apne imam k madhhab k khilaaf masla laine ki ijaazat kar ic ko legalize kar dena tu zyada khatarnaak hai.

firozuk
03-24-2010, 10:53 AM
[QUOTE=Malang009;58811]

اصول کرخی :۔

اصول کرخی میں علامہ کرخیؒ نے جو اصول بتایا ہے اس میں کوی بھی خرابی نہیں ، اسلام چونکہ 23 سال میں مکمل ہوا ایک ہی دن میں سارے کا سارا دین نہیں اترا اسی لیے ناسخ و منسوخ کا سلسلہ چلتا رہا اور اس پر علماء نے مستسقل کتابیں لکھیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کے احکامات منسوخ ہوے مثال کے طور پر علامہ جلال الدین السیوطیؒ کی کتاب الاتقان اس مسلہ پر ہے جس میں انہوں نے قرآن کے اندر ناسخ و منسوخ پر تفصیلی بحث کی ہے ۔ اسی لیے جو اصول علامہ کرخی نے بتایا ہے وہ بلکل ٹھیک ہے کہ جو اگر ہمیں کو حدیث احناف کے مسلہ کے خلاف ملے گی اسکے بارے میں ہم یہ ہی کہیں گے کہ یہ آخری دور کا عمل نہیں بلکہ پہلے ہوتا تھا پھر منسوخ ہو گیا ۔ مثال کے طور پر رفع یدین کا عمل ، جو کہ پہلے ہوتا تھا بعد میں احناف کے نزدیک مسنوخ ہو گیا ۔ اور بھی کیء مثالیں اس مسلہ پر دی جا سکتی ہیں ۔ اس مسلہ کو غیر مقلدین بھی مانتے ہیں ۔ اگر نہیں تو وہ لکھ دیں کہ انکے نزدیک دین اسلام میں کوی بھی چیز یا مسلہ منسوخ نہیں ہوا اور جو علما ناسخ و منسوخ کے قایل ہیں وہ بھی گمراہ ہیں ۔ اگر قایل ہیں تو پھر احناف پر تنقید کرنے کی وجہ ؟؟؟



--------
Bhai Sahab Keh Tafseel to bayan kar di aapne yeh kitab pada hai aapne ...? agaer padhe hote to aisa kabhi nahin likhtey....[allama karkhi likhte hai ....(Kulla Khabar) yani complete hadeesk VS Qawloo Ashabuna [abu hanifa[ra] qazi abu yousuf aur mohamad al shaybani] ke qawl se takrajaye to....! Allah Hukbar

AAP LOG IS KO GALAT NA KaHTEY HUE IS KI TAWEEL KARTE HOOO SHARAM KARO AUR APNE IMAN KO TATOLO....

Salafi
04-03-2010, 10:37 AM
Jahan tak nafs parasti aur fitnah phailane k liye ic rawayye ku apna na hai wuh tu ba'az deobandi bhi apnate hain. maslan mufti taqi k malyati masail ku deegar deobandi ulama ki mukhalifat k bawajood baaz deobandi 'aamion ka laina.


Ic tajziye k paish lafz mein shaykh saleem ullah khan hafizahullah ne ju farmaya hai wuh meri baat ka wazeh saboot hai. jis ku nafs parasti karni hu aur kici 'alim ki baat apnay faiday k liye hi manni hu wuh aik maslak mein rahtay huai bhi aisa kar sakta hai.

Imran Omer
04-30-2010, 03:36 AM
http://www.taqleed.110mb.com/
اس ویب سائٹ کی مدد سے اپنے تمام اعتراضات دور کیجئے

ملنگ
05-17-2010, 12:18 AM
mujey kafi din sey time nahi mil raha kuch family problems ki waja sey isi liye may is jaga or bhi kuch dosri jaga reply nahi kar pa raha hon ,,, wese topic bhi kahin ka kahin nikal chuka hay inshaALLAH jald hi reply karon ga .

paki boy
06-21-2010, 08:42 AM
جناب جو جواب اس آرٹیکل کا آے گا انشااللہ اسکو دیکھ کر زبیر علی زیی صاحب کے چہرے پر بھی پسینہ آجاے گا جسکی کتاب سے حوالے لیے گےء ہیں ۔۔۔ اور وہ بھی نا مکمل

Malang Bhai app nay tu Lajawab kardia hay gm firkay kooo....

Hafiz_
07-01-2010, 04:20 AM
Masha Allah Malang bahi. Bohat zabardast Dalial hain taqleed par.
Allah aap ko jaza dy.

amir896
08-02-2010, 01:13 PM
dewband shia ki tarha sab se bara jhoota kabhi me bhi dewband tha Allah ne aqal di quraan or hadees ko parha tab pata chala ke haq kia hai

Reehab
08-02-2010, 02:13 PM
dewband shia ki tarha sab se bara jhoota kabhi me bhi dewband tha Allah ne aqal di quraan or hadees ko parha tab pata chala ke haq kia hai

Dekho amir bahyee. yeh bhut purana kame ho gaya ke me pahel deobandi tha phir quran aur hadhees ko parha to haq per agaya. yeh kainat ka sub se bara jhoot he. jo her koye akar internet per bol deta he sirf tasub ke bina per.
yakeen jano me abhi aap se quran ke mutabik poochne beth jaoon agar aapne jawab de diya to me ALLAH ki kasma ghier mukaldi ban jaoon ga aur deobandiuo ko thokar maroon ga. abhi tak aap ke kitne bahye aye aru kissi ne jawab nahi diya its mean ke Ghier mukalid sirf name ke ahlehadhees hien in ko quran aur hadhees ke alif bay tak nahi maloom.
is liye yeh aien baien chore aur jo bat ke gaye he us ka mudallil jawab dien.
umeed he ke samajh agye ho ge.

Z33shan
08-02-2010, 02:42 PM
dewband shia ki tarha sab se bara jhoota kabhi me bhi dewband tha allah ne aqal di quraan or hadees ko parha tab pata chala ke haq kia hai

tumhare khandan main kabhi kisi ne koi hadees ki kitaab bhi dekhi hai ?
Jhoote laanati !

جمشید
08-03-2010, 09:21 PM
ويقول الشاطبي: "فتاوي المجتهدين بالنسبة إلى العوام كالأدلة الشرعية بالنسبة إلى المجتهدين، والدليل عليه أن وجود الأدلة بالنسبة إلى المقلدين وعدمها سواء إذ كانوا لا يستفيدون منها شيئًا، فليس النظر في الأدلة والاستنباط من شأنهم ولا يجوز ذلك لهم ألبتة، وقد قال تعالى: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ}، والمقلِّد غير عالم، فلا يصح له إلا سؤال أهل الذكر، وإليهم مرجعه في أحكام الدين على الإطلاق، فَهُمْ إذًا القائمون له مقام الشارع وأقوالهم قائمة مقام الشارع"
الموافقات للشاطبي 4/292- 29
غیرمقلدین حضرات سے درخواست ہے کہ وہ امام شاطبی کے اس قول پر نگاہ دوڑائیں اوردیکھیں کہ امام شاطبی کیافرمارہے ہیں

جمشید
08-03-2010, 09:24 PM
ويقول الشاطبي: "فتاوي المجتهدين بالنسبة إلى العوام كالأدلة الشرعية بالنسبة إلىالمجتهدين، والدليل عليه أن وجود الأدلة بالنسبة إلى المقلدين وعدمها سواء إذ كانوالا يستفيدون منها شيئًا، فليس النظر في الأدلة والاستنباط من شأنهم ولا يجوز ذلكلهم ألبتة، وقد قال تعالى: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لاتَعْلَمُونَ}، والمقلِّد غير عالم، فلا يصح له إلا سؤال أهل الذكر، وإليهم مرجعه فيأحكام الدين على الإطلاق، فَهُمْ إذًا القائمون له مقام الشارع وأقوالهم قائمة مقامالشارع

الموافقات للشاطبي 4/292- 293.
غیرمقلدین حضرات سے درخواست ہے کہ وہ امام شاطبی کے اس قول پر نگاہ دوڑائیںاوردیکھیں کہ امام شاطبی کیافرمارہے ہیں
"

جمشید
08-04-2010, 08:28 PM
کوئی مجھے بتاسکتاہے کہ اس فورم میں کسی حروف کو چھوٹایابڑاکرنے کااوراسے مختلف رنگوں سے مزین کرنے کاطریقہ کار کیاہے۔

ali_haider_engr
09-23-2010, 11:40 AM
challange to ghair muqalideen